خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 323
خطبات ناصر جلد دہم ۳۲۳ خطبہ نکاح ۲۹ اکتوبر ۱۹۶۶ء ذمہ داری تم نے بہر حال اٹھانی ہے۔اور نیک نیتی سے اس کے اٹھا لینے کی کوشش کرنی ہے۔اسلام یہ ذہنیت پیدا کرتا ہے کہ مختلف حالات میں مختلف اوقات میں اور مختلف جہات سے انسان پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں یا عائد ہونی چاہئیں انہیں خوشی سے قبول کیا کرو۔دعا سے اور تدبیر سے انہیں نبھانے کی کوشش کیا کرو، اس طرح اگر ان ذمہ داریوں کو نہ نبھایا جائے ، اس میں سستی دکھائی جائے ،غفلت ہوتی جائے اور لا پرواہی کی جائے تو خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہوتا ہے۔ذمہ داری خواہ کتنی بڑی ہوا سے بشاشت سے قبول کرنا ہے اور تن دہی سے ادا کرنا ہے۔جو شخص ایسا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضلوں کا وارث کرتا ہے۔یہ ذمہ داریاں بہت سی ہیں لیکن بے شمار نہیں کیونکہ ان کا شمار کیا جاسکتا ہے اور پھر ان میں سے بعض بعض دوسری ذمہ داریوں کے مقابلہ میں غیر اہم بن جاتی ہیں۔مثلاً وہ ذمہ داریاں جن سے انسانی زندگی کا تعلق ہے ان میں سے وہ ذمہ داریاں جو خدا تعالیٰ کے تعلق میں ہیں۔ان ذمہ داریوں سے اہم ہیں اور بنیادی ہیں۔جو ہمارے آپس کے تعلقات کے سلسلہ میں ہم پر عائد ہوتی ہیں۔ان تعلقات کے نتیجہ میں ایک طرف جہاں انسان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہاں دوسری طرف اس کے ساتھ رحمت اور برکت اور نعمت بھی لگی ہوئی ہے۔اگر تم ان ذمہ داریوں کو ادا کرو گے تو تم اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے وارث ہوتے جاؤ گے۔اللہ تعالیٰ نئے رشتے قائم کرنے والوں کو بھی اور ہم کو بھی توفیق عطا کرے کہ ہم ہر ذمہ داری کو اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔اس سے منہ نہ موڑیں۔اور جب تک اللہ تعالیٰ توفیق عطا کرے اسے اس رنگ میں نبھا سکیں کہ وہ ہم سے ناراض نہ ہو۔اور جب وہ ہم پر خوش ہو تو صرف ہمارے فعل کا ہی ہمیں نتیجہ نہ ملا ہو بلکہ وہ اپنی طرف سے بہت کچھ اپنا فضل اور رحمت بھی زائد کر دے تا اس کے فضلوں کے ہم زیادہ سے زیادہ وارث بن سکیں۔ان نکاحوں میں سے سب سے پہلے میں جس نکاح کا اعلان کروں گا اس کا ہمارے ایک درویش بھائی کے ساتھ تعلق ہے درویشوں کے ہم پر بڑے حقوق ہیں اور ہمیں ان حقوق کو دعاؤں کے ذریعہ ادا کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں کہ