خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 322 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 322

خطبات ناصر جلد دہم خطبہ نکاح ۲۹ اکتوبر ۱۹۶۶ء ہے۔اگر چہ بچہ بولتا نہیں لیکن اس کا یہ حق قائم کیا گیا ہے اور معاشرہ اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ اُسے یہ حق دلائیں۔سوائے استثنائی حالات کے کہ بعض دفعہ دودھ پلانے کی وجہ سے ماں کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے یا کوئی اور وجہ ہو جاتی ہے۔مثلاً ماں کو دودھ ہی نہیں آتا اس قسم کی مجبور یاں استثنائی ہوتی ہیں۔پھر بچہ کی جسمانی پرورش اور دوسرے حقوق کی نگہداشت ان کی ذمہ داری ہے۔اس کی اخلاقی تربیت کی طرف انہیں توجہ کرنی پڑتی ہے اور روحانی تربیت کی طرف توجہ کرنی پڑتی ہے۔غرض بہت سی ذمہ داریاں ہیں جو نکاح کے ذریعہ پیدا ہوتی ہیں اور یہ اتنی سخت قسم کی ذمہ داریاں ہیں کہ یورپ، امریکہ اور افریقہ کے رہنے والے جو اسلام کو مانتے نہیں یا اب اسے سمجھتے نہیں انہیں دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں۔لاکھوں انسان یوروپ میں ایسے ہیں جو بے نکاحی زندگی گزار رہے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ اپنے آپ کو ان بکھیڑوں میں کیوں ڈالیں۔اور بعض ان میں سے جو شادی کرتے ہیں۔وہ عمر کے اس حصہ میں کرتے ہیں جب اکثر ذمہ داریاں اس نکاح کے نتیجہ میں ان پر عائد ہی نہیں ہوتیں۔مثلاً اگر وہ ۷۰ یا ۸۰ سال کو پہنچ جائیں تو نکاح کر لیتے ہیں۔اس عمر میں بچے کی پیدائش کا تو سوال ہی نہیں ہوتا اور میکے اور سسرال کی ذمہ داریاں کا سوال بھی شاید پیدا نہ ہو کیونکہ اکثر دونوں کے ماں باپ فوت ہو چکے ہوتے ہیں۔صرف اتنی ذمہ داری باقی رہ جاتی ہیں کہ ایک دوسرے کو خوش کس طرح رکھ سکتے ہیں۔اس لئے کہ ان کے مذہب نے یا اگر وہ لا مذہب ہیں یا بد مذہب ہیں تو ان کے خیالات نے یہ ضروری قرار نہیں دیا کہ شادی کریں لیکن ان تمام ذمہ داریوں کے باوجود اور باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ یہ حکم بھی دیا ہے کہ اگر تم ان میں سے کوئی ذمہ داری ادا نہیں کرو گے تو اس کی ناراضگی کومول لے رہے ہو گے۔اسلام نے یہ حکم دیا ہے کہ اس قسم کے تعلق کو ضرور قائم کرنا چاہیے۔رہبانیت اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ان حالات میں اور اس حکم کے نتیجہ میں ہمیں بہت سے سبق ملتے ہیں اور بہت سے نتائج ہیں جو ہم ان سے اخذ کرتے ہیں۔مثلاً ہم ایک نتیجہ ان سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ یہ حکم دیتا ہے کہ جو ذمہ داری تم پر عائد ہو وہ کسی رنگ کی بھی ہو۔اس سے پہلو تہی نہیں کرنی چاہیے۔وہ