خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 321
خطبات ناصر جلد دہم ۳۲۱ خطبہ نکاح ۲۹ /اکتوبر ۱۹۶۶ء ہر دو کو نئے حالات کے مطابق اپنی پرانی عادتیں اور پرانے خیالات بدلنے پڑتے ہیں خطبہ نکاح فرموده ۲۹/اکتوبر ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز مغرب مندرجہ ذیل نکاحوں کا اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔نکاح کے ذریعہ جو رشتے قائم ہوتے ہیں ان کے نتیجہ میں بہت سی ذمہ داریاں ہر دولڑ کے اور لڑکی پر عائد ہو جاتی ہیں۔ان میں سے پہلی ذمہ داری جو بہت ہی اہم اور ضروری ہے یہ ہے کہ ہر دو کو نئے حالات کے مطابق اپنی پرانی عادتیں اور پرانے خیالات بدلنے پڑتے ہیں۔کچھ باتیں لڑکے کو چھوڑنی پڑتی ہیں اور کچھ لڑکی کو قربانی کرنی پڑتی ہے اور ہر دو کوشش کرتے ہیں کہ ان کی طبیعتیں ، ان کی عادتیں ، ان کے سوچنے کے طریق، ان کے رہنے سہنے کے طریق جہاں تک ہو سکے ایک جیسے ہو جائیں۔پھر سسرال کی ذمہ داریاں ہیں۔پھر یہ ذمہ داری ہے کہ ان ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے میکے کی ذمہ داریاں نظر انداز نہ ہوں۔پھر بچوں کی ذمہ داری ہے جو پہلے دن سے ہی عائد ہو جاتی ہے۔بچہ کی پیدائش سے قبل بہت سی ذمہ داریاں آجاتی ہیں مثلاً دعائیں کرنے کی ، خیالات کو صاف رکھنے کی اور ارادوں کو پاک رکھنے کی۔بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کا یہ حق قرار دیا ہے کہ وہ کم از کم ۲۱ ماہ تک ماں کے دودھ کا مطالبہ کر سکتا