خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 315 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 315

خطبات ناصر جلد دہم ۳۱۵ خطبہ نکاح ۱۶ اگست ۱۹۶۶ء ایک تو یہ کہ ہم پورے طور پر قرآن مجید کے سامنے نہ جھکیں اور اپنی زندگیوں کو قرآن مجید کی تعلیم کے مطابق نہ ڈھالیں اور اپنے نفسوں اور اپنی روحوں کو قر آنی نور سے منور نہ کریں بلکہ ایک حد تک تو ہم قرآن کریم کی طرف مائل ہوں اور ایک حد تک دنیا سے اثر لینے والے ہوں۔دوسرے یہ کہ ہم کلی طور پر قرآن کریم کی اطاعت کا جوا اپنی گردنوں پر رکھیں اور دنیا کے ہرا ثر کو ہر طاقت کو اور ہر لالچ کو ٹھکرا کر پرے پھینک دیں۔اگر ہم پہلا راستہ اختیار کریں تو وہ وقت دور نہیں جب ہمیں پچھتانا پڑے گا۔یہ سوچ کر کہ بہت سے وہ پیدا ہوئے جو بعد میں آئے اور آگے نکل گئے ہم جو استاد بن سکتے تھے آئندہ نسلوں کے استاد نہ بنے اور وہ جو بعد میں پیدا ہوئے۔دنیا کی قیادت اور دنیا کی ہدایت اور دنیا کو علم سکھانے کا کام ان کے سپرد ہوا اور ہم موقع پانے کے باوجود فائدہ نہ اٹھا سکے اور استاد بننے کا امکان رکھتے ہوئے شاگر دہی رہے۔اگر ہم دوسرا راستہ اختیار کریں اور قرآن کریم کے بتائے ہوئے سیدھے راستے (صراط مستقیم ) پر پوری توجہ پوری ہمت اور پوری طاقت کے ساتھ چلیں اور کسی شیطانی آواز کی طرف دھیان نہ دیں تو خدا تعالیٰ ہمیں آئندہ نسلوں کا استاد اور رہبر بنائے گا۔میری یہ خواہش بھی ہے۔میرے عزیز بچو! اور میری یہ دعا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے آپ کو ہادی ، رہبر اور استاد بننے کی توفیق عطا کرے اور آپ کے دل میں وہ حسرتیں پیدا نہ ہوں جو موقع کھو جانے کے بعد انسان کے دل میں پیدا ہوا کرتی ہیں۔اس کے بعد حضور انور نے ایجاب و قبول کروایا اور رشتہ کے بابرکت ہونے کے لئے لمبی دعا فرمائی۔روزنامه الفضل ربوه ۲۸ اگست ۱۹۶۶ء صفحه ۳، ۴)