خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 285
خطبات ناصر جلد دہم ام الْكِتَابِ ۲۸۵ خطبہ نکاح ۲۷ رمئی ۱۹۶۶ء ثُمَّ إِنَّ اللهَ عَزَّوَجَلَّ آمَرَنِي أَنْ أَزْوَجَ فَاطِمَةً مِنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِ طَالِبٍ فَأَشْهِدُوْا أَنِّي زَوَجْتُهُ عَلَى أَرْبَعِ مِائَةِ مِثْقَالِ فِضَّةٍ إِنْ رَضِيَ بِذَلِكَ عَلَى آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔کہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں جو رب ، رحمن ، رحیم ، مالک یوم الدین کی صفات کی وجہ سے اپنی مخلوق پر بے شمار نعمتیں نازل کرتا ہے اور اس کی مخلوق اس کی نعمتوں کو دیکھ کر اس کی حمد میں مصروف ہے۔کامل قدرت اسی کو حاصل ہے۔اسی لئے وہی ایک معبود حقیقی ہے۔قادرانہ تسلط اسی کو حاصل ہے۔اس لئے وہی سچی اور عاجزانہ اطاعت کا مستحق ہے۔اس کے قہر اور جبروت کو دیکھ کر مخلوق خوف کے مقام پر کھڑی ہوتی ہے۔آسمان اور زمین میں اس کا حکم نافذ ہے۔اس نے اپنی قدرت کا ملہ سے مخلوق کو پیدا کیا۔پھر اپنے کامل تصرف سے اس نے ان میں مختلف قوتیں اور استعدادیں پیدا کیں اور بعض کو بعض پر فضیلت بخشی پھر اشرف المخلوقات کو ایک کامل شریعت کے ذریعہ انتہائی شرف بخشا اور اپنے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مبعوث فرما کر اس نے انسان کے لئے عزت اور شرف کے سامان مہیا کئے۔اللہ تعالیٰ نے ازدواجی تعلقات کو فطرت کا جزو بنایا ہے جس سے پھل کے بعد پھل حاصل ہوتا ہے اور اس سلسلہ میں انسان کے لئے ہدایت کو نازل کیا اور نکاح کو واجب قرار دیا اور اس کے ذریعہ اس نے خاندانوں کے باہمی تعلقات میں وسعت پیدا کی۔عزت و عظمت والا ہے وہ جس نے قرآن کریم میں فرمایا۔اور وہ خدا ہی ہے جس نے پانی سے انسان بنایا۔پس اس کو کبھی تو کمال قدرت سے شجرہ آباء کے خونی رشتہ میں منسلک کیا اور کبھی کمال ہدایت سے ازدواجی رشتہ میں باندھا اور تیرا رب ہر چیز پر قادر ہے۔66 پس یا درکھو کہ اللہ تعالیٰ کا ہر انفرادی حکم، قوانین قضا اور قوانین قدرت کے ذریعہ ظہور پکڑتا ہے اور قضاء و قدر کے قوانین میں اس کی قدرتوں کے نظارے جلوہ گر ہوتے ہیں اور اس کی یہ