خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 6 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 6

خطبہ عیدالفطر ۲۳ جنوری ۱۹۶۶ء خطبات ناصر جلد دہم دل میں اس نیک عمل کی خواہش پیدا ہوئی۔پھر جب وہ اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کی نیت کرے تو اسے یہ خیال نہیں آنا چاہیے کہ اس کے اندر کوئی خوبی تھی جس کی وجہ سے وہ اس نیک خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے قابل ہو گیا بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس کی خواہش نیست میں بدل گئی اور جب یہ نیت عمل کی شکل میں تبدیل ہو تب بھی وہ یہ سمجھے کہ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ مجھے اپنی نیت کے مطابق اس نیک عمل کو بجالانے کی توفیق ملی۔پھر جب وہ عمل قبول ہو جائے تو وہ یہی سمجھے کہ اس کے اندر تو کوئی خوبی نہیں تھی اس کے عمل میں ہزاروں رخنے تھے لیکن اللہ تعالیٰ بڑا احسان کرنے والا ہے۔بڑا فضل کرنے والا ہے اور بڑی مغفرت کرنے والا ہے۔اس نے اپنی غفار ہونے کی صفت کے نتیجہ میں اور اپنی رحیم ہونے کی صفت کے نتیجہ میں میرے ناقص اعمال کو قبول کر لیا ہے اور وہ مجھ سے محبت کرنے لگ گیا ہے۔غرض ہر نیک کام اپنے اندر کم سے کم چار عیدیں رکھتا ہے کیونکہ انسان اس کے نتیجہ میں اپنے اوپر چار دفعہ خدا تعالیٰ کا فضل ہوتے دیکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ماہ رمضان میں ہماری جماعت کے افراد کو توفیق بخشی کہ وہ پہلے سے زیادہ عبادت کی طرف متوجہ ہوں۔چنانچہ چند سال پہلے درس میں شامل ہونے والوں اور نماز تراویح میں شامل ہونے والوں کے متعلق جور پورٹیں ملتی رہی ہیں اس سال ان کے مقابلہ میں چھ سات گنا زیادہ لوگ درس قرآن کریم اور نماز تراویح میں شامل ہوتے رہے ہیں۔جب میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سال جماعت کے افراد کو توفیق بخشی کہ وہ کثرت سے قرآنی علوم سیکھنے اور قیام لیل کی طرف متوجہ ہوئے ہیں تو میرے دل نے کہا۔یہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر ممکن نہ تھی اور جہاں بھی اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوتا ہے وہیں مومن بندہ کے لئے عید کا مقام ہوتا ہے۔عبادت کا یہ نظارہ دیکھ کر میرا دل خدا تعالیٰ کی حمد سے بھر گیا اور مجھے دلی مسرت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت پر فضل کیا اور اس کے بوڑھوں ، جوانوں اور بچوں پھر عورتوں اور مردوں کو توفیق بخشی کہ وہ پہلے کی نسبت زیادہ اس کی طرف متوجہ ہوں اور دن اور رات اس کی عبادت میں گزاریں اور میرے دل کی گہرائیوں سے یہ دعا نکلی کہ اے خدا! جہاں تو نے جماعت کے افراد کو