خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 5
خطبات ناصر جلد دہم خطبہ عیدالفطر ۲۳ جنوری ۱۹۶۶ء احسان دونوں معنے رحمت میں پائے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَرْجُوا رَحْمَةً رَبِّهِ - مومن بندہ امید رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی کوتاہیوں کو مغفرت کی چادر سے ڈھانپ دے گا اور محض اپنے فضل سے اس کی عبادت کو قبول کر لے گا۔فرماتا ہے ایسے بندے جو دن رات خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور پھر بھی اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ان کا عمل قبول بھی ہوتا ہے یا نہیں۔اور پھر وہ میری رحمت پر بھروسہ کرتے ہوئے امید رکھتے ہیں کہ میں اپنے فضل سے ان کے اعمال قبول کرلوں گا۔میں انہیں خوشخبری دیتا ہوں کہ میں ان کے اعمال کو ان کے لئے عید بنادوں گا اور ان سے میرا اسلوک ان لوگوں سے مختلف ہو گا جو سرکشی کرنے والے ہیں۔فخر و مباہات کرنے والے ہیں اور کبر و غرور کرنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے رسول ! تم میری طرف سے اعلان کر دو۔هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ۔وہ لوگ جو اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ان کے اعمال ان خوبیوں کے حامل نہیں کہ وہ ان کے نتیجہ میں ضرور جنت میں داخل ہوجائیں گے بلکہ ان کے جنت میں داخل ہونے کے لئے محض خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کی ضرورت ہے۔ان لوگوں کے برابر نہیں جو اس حقیقی اور بنیادی نکتہ کو نہیں سمجھتے۔وہ تھوڑے سے اعمال بجالاتے ہیں اور پھر اس فخر اور غرور میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ہم نے بہت نیکیاں کر لی ہیں۔اب اللہ تعالیٰ ہمیں ضرور جنت دے دے گا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی نظر میں وہی شخص مقبول ہوتا ہے جو نیک اعمال بجالانے کے بعد بھی ڈرتا رہتا ہے کہ اس کے نیک اعمال خدا تعالیٰ کی درگاہ سے رڈ نہ ہوں اور ساتھ ہی یہ امید بھی رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ بڑا رحیم ہے وہ اس کے اعمال کو ضائع نہیں کرے گا۔وہ اس کی کمزوریوں کو دور کر دے گا اور محض اپنے فضل اور احسان سے اسے اپنے قرب اور رضا کے مقام تک پہنچا دے گا۔پس اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز جس کا تعلق اعمال صالحہ سے ہے وہ محض خدا تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوتی ہے۔اس لئے کسی مرحلہ پر بھی انسان کو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ اس میں کوئی ایسی خوبی تھی کہ اس نے ایسے نیک عمل کئے۔مثلاً جس وقت کسی انسان کے دل میں کسی عمل کی خواہش پیدا ہو تو اسے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس کے اندر کوئی ذاتی نیکی تھی جس کی وجہ سے اس کے