خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 262
خطبات ناصر جلد دہم ۲۶۲ خطبہ نکاح ۲۶ فروری ۱۹۶۶ء قرآن کریم کی ہدایت کے صریح خلاف ہے قرآن کریم نے بیوہ کی شادی کا نہ صرف حکم دیا ہے بلکہ اس کی بڑی تاکید فرمائی ہے پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس کی بڑی تاکید فرمائی ہے۔چنانچہ میں اس وقت اس سلسلہ میں آپ کے ملفوظات میں سے ایک اقتباس پڑھ کر سنانا چاہتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ نظارت اصلاح و ارشاد اس طرف توجہ دے گی اور اس امر کا خیال رکھے گی کہ اگر ہماری جماعت کی کوئی عورت بد قسمتی سے بیوہ ہو جائے تو اس کی دوبارہ شادی کا انتظام ہو جائے۔بیوہ کی شادی کے متعلق یہ امر بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ شادی صرف نسل کے حصول کے لئے ہی نہیں کی جاتی بلکہ اور بھی کئی مقاصد ہوتے ہیں جو شادی کے ذریعہ مردو عورت حاصل کرتے ہیں۔یور بین اقوام میں ایسی مثالیں بھی بڑی کثرت سے ملتی ہیں کہ ایک ستر سالہ مرد نے ایک ستر سالہ عورت سے شادی کر لی۔اس صورت میں بچہ پیدا کرنے کی عمر سے ہر دو تجاوز کر چکے ہوتے ہیں۔اس لئے ظاہر ہے کہ ان کی شادی کا مقصد اولاد پیدا کرنا نہیں ہوتا کیونکہ بیوی کا صرف یہ کام ہی نہیں کہ وہ خاوند کے لئے اولاد پیدا کرے بلکہ اس کے علاوہ بھی اس کی بہت سی ذمہ داریاں ہیں جن کے پورا کرنے کی اہلیت اس میں آخر عمر تک رہتی ہے۔پس میں اس خطبہ کے ذریعہ نظارت اصلاح وارشاد کو توجہ دلاتا ہوں کہ اگر جماعت کی کوئی عورت بیوہ ہو جائے چاہے اس کی عمر چھوٹی ہو یا وہ ادھیڑ عمر کی ہو۔تو اس کی دوبارہ شادی کروانے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی بڑی تاکید فرمائی ہے کہ اسلام کے اس حکم کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم بیوہ کی شادی کی طرف متوجہ رہیں اور نہ صرف اس کا خیال ہی رکھیں بلکہ اس کا انتظام بھی کریں چنانچہ آپ فرماتے ہیں۔اگر کسی عورت کا خاوند مر جائے تو گو وہ عورت جوان ہی ہو دوسرا خاوند کرنا ایسا بُرا جانتی ہے جیسا کہ کوئی بڑا بھاری گناہ ہوتا ہے اور تمام عمر بیوہ اور رانڈ رہ کر یہ خیال کرتی ہے کہ میں نے بڑے ثواب کا کام کیا ہے اور پاک دامن بیوی ہوگئی ہوں حالانکہ اس کے لئے بیوہ رہنا سخت گناہ کی بات ہے۔عورتوں کے لئے بیوہ ہونے کی حالت میں خاوند کر لینا نہایت ثواب کی بات ہے۔ایسی عورت حقیقت میں بڑی نیک بخت اور ولی ہے۔