خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 257
خطبات ناصر جلد دہم ۲۵۷ خطبہ نکاح ۱۷ فروری ۱۹۶۶ء رشتہ استوار کرنے کے لئے پیش نظر رکھنے والی غرض خطبہ نکاح فرموده ۱۷ فروری ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عصر مکرم محمد ادریس پسر ٹھیکیدار فضل دین صاحب مرحوم ربوہ کے نکاح ہمراہ نیم اختر صاحبہ بنت رحمت علی صاحب مرید کے ضلع شیخو پورہ بعوض پانچ ہزار روپیہ مہر کا اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔ہم سب احمدیوں کو نکاح کے مواقع پرمل کر یہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں مبارک فرمائے۔دنیا مختلف اغراض کے لئے رشتے استوار کرتی ہے لیکن ہمارے سامنے صرف ایک ہی غرض ہونی چاہیے کہ خدا تعالیٰ اس رشتہ کے نتیجہ میں دنیا میں ایک ایسی نسل چلائے جو خدا تعالیٰ کی توحید، اس کی عظمت اور اس کا جلال قائم کرنے والی ہو۔اس کے بعد حضور انور نے ایجاب وقبول کرایا اور حاضرین سمیت رشتہ کے بابرکت ہونے کے لئے دعا فرمائی۔روزنامه الفضل ربوه ۲۶ جنوری ۱۹۶۶ ء صفحه ۴)