خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 223
خطبات ناصر جلد دہم ۲۲۳ خطبہ عیدالاضحیه ۹/اکتوبر ۱۹۸۱ء میں اتنا نور اور اتنا حسن ہے کہ قیامت تک کے نوع انسانی کو اس قربانی کی برکتوں نے اس معنی میں مالا مال کیا کہ جس نقش قدم پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم چلے قربانیاں دیتے ہوئے اپنے رب کریم کے دربار میں جا پہنچے انہی نقوش قدم پر چلتے ہوئے امت محمدیہ میں لاکھوں کروڑوں اپنی اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق قربانیاں دیتے چلے گئے اور خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرتے چلے گئے۔وَاسْتَقِم كما أمرت یہ سورۃ الشوریٰ کی ۶ ویں آیت ہے۔کل شام کو یہ مضمون جب میرے دماغ میں آیا تو میری توجہ اس طرف بھی پھیری گئی کہ سورۃ شوری کی ابتدا سے یہ مضمون شروع ہوتا ہے یعنی صرف ۶ ویں آیت وَ اسْتَقِمْ كَمَا اُمِرْتَ میں نہیں۔میں مختصراً ( کیونکہ بہت لمبا مضمون بن جاتا ہے ۱۶ آیات کا ) اس وقت بیان کروں گا۔اس سے پہلے کی جو آیات شروع ہوتی ہیں وہ میں نے پہلی آیت دوسری آیت لے کے اس کا مفہوم مختصراً اٹھا یا ہے ان آیات سے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے شروع یہاں سے ہوا۔اللہ تمام صفات حسنہ سے متصف ہے۔یعنی جو کائنات کی بنیاد تھی وہاں سے مضمون کی ابتدا ہوئی۔العلی اس کی شان بڑی بلند ہے الْعَظِیمُ اس کی حکومت سب مخلوق پر پھیلی ہوئی ہے۔العلی جتنی اس کی شان بلند ہے اسی قدر ہر انسان اپنی استعداد میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی پیروی کرتے ہوئے بلندیوں تک پہنچ سکتا ہے۔نمبر ۲۔آسمان و زمین اللہ کی عظمت کو پہچانتے ہیں۔يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ (الجمعة: ۲) ہے یہاں دوسرے الفاظ ہیں لیکن مفہوم کا خلاصہ یہی نکلتا ہے آسمان اور زمین ، اللہ کی عظمت کو پہچانتے ہیں اور اس کے جلال سے لرزاں ہیں۔نمبر ۳۔فرشتے اس کی حمد اور تسبیح کر رہے ہیں اور زمین پر بسنے والوں کے لئے سہارا بنتے ہیں ان کے لئے استغفار کرتے ہوئے اور جب بندہ اپنے رب غَفُور اور رَحِیم کو عاجزانہ دعاؤں سے پکارتا ہے تو فرشتے بھی دعاؤں میں استغفار میں شامل ہوتے ہیں اور اللہ کے حضور یہ درخواست کرتے ہیں کہ ان بندوں کی دعاؤں کو قبول کر اور مغفرت کی چادر میں انہیں ڈھانپ لے۔