خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 221 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 221

خطبات ناصر جلد دہم ۲۲۱ خطبہ عیدالاضحیه ۹/اکتوبر ۱۹۸۱ء یہ عید اس عظیم قربانی کی یاد میں مناتے ہیں جو محمد کے وجود میں عروج کو پہنچی خطبہ عیدالاضحیه فرموده ۹/اکتوبر ۱۹۸ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه نماز عید پڑھانے کے بعد حضور انور منبر پر تشریف لائے اور فرمایا :۔آپ سب کو عید مبارک ہو۔جو بیٹھے ہیں انہیں بھی اور جو مسجد سے باہر نکل رہے ہیں انہیں بھی عید مبارک ہو۔جو ربوہ میں ہیں انہیں بھی عید مبارک ہو اور جور بوہ سے باہر ہیں انہیں بھی عید مبارک ہو۔جو پاکستان میں ہیں انہیں بھی عید مبارک ہو اور جو پاکستان سے باہر رہتے ہیں انہیں بھی عید مبارک ہو۔پھر تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔آج جو عید ہے اسے عید قربان کہتے ہیں۔قربانیوں کی عید۔بعض دفعہ یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ قربانی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے رب کریم کے حضور پیش کی۔اس کی یاد میں ہم یہ عید مناتے ہیں۔بنیادی حقیقت جو قربانی کی ہے اس کی ابتدا کا ذکر کر دیتے ہیں اور اس کے عروج کو بھول جاتے ہیں۔یہ عید ہم مناتے ہیں اس عظیم قربانی کی یاد میں اور اسے اپنے لئے اسوہ سمجھتے ہوئے جس کی ابتدا حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی قربانی سے ہوئی اور جو قربانی اپنے عروج