خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 219 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 219

خطبات ناصر جلد دہم ۲۱۹ خطبہ عیدالاضحیه ۱۹ اکتوبر ۱۹۸۰ء وقت آیا تو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ذبح کر دو بلکہ فرمایا اِفْعَلُ مَا تُؤْمَرُ (الصفت : ۱۰۳) یعنی خدا جو کہتا ہے اس کے مطابق کرو۔حضور انور نے فرمایا:۔زندگی کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اِفْعَلُ مَا تُؤْمَرُ کے مقام تک پہنچ جائے۔چنانچہ جب شراب کی ممانعت ہوئی اور مدینہ کی گلیوں میں اس کا اعلان کیا گیا تو ایک شخص نے جس کے گھر میں شراب پی جا رہی تھی اس نے خود مٹکوں کو توڑنا شروع کیا اور کہا کہ پہلے مٹکے توڑ و تحقیق بعد میں کہ فی الحقیقت ممانعت ہوئی ہے یا نہیں۔حضور انور نے فرمایا کہ ہماری اصل خوشیاں اس بنیاد پر ہیں کہ ہمارے دلوں میں خدا کی خشیت اور تقویٰ گھر کر چکا ہو اور اس کے سوا اور کسی چیز کا تصور ہی نہ ہو سکے۔یہی معنے حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ کے الہام مولا بس کے ہیں۔جب یہ کیفیت پیدا ہو جائے تو حقیقی خوشی ہے۔یہی وہ مقام ہے جسے قرآن کریم اَلا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا ( حم السجدة: ٣١) قرار دیتا ہے۔آخر میں حضور انور نے احباب جماعت کو تلقین کرتے ہوئے فرمایا:۔افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ کی روح پیدا کرتے ہوئے قربانیوں میں آگے بڑھو۔خدا پر بھروسہ کرتے آگے بڑھو۔کمزوروں کو سہارا دو، غافلوں کو بیدار کرو، بے سمجھوں میں تَفَقُهُ فِي الدِّين پیدا کرو جو تقویٰ سے خالی ہیں ان کے دلوں میں تقویٰ پیدا کرو۔خدا تمہیں توفیق دے تم اس کے فضلوں کو جذب کرنے والے اور رحمتوں اور برکتوں کو حاصل کرنے والے بنو۔خطبہ ختم ہونے پر حضور انور نے دعا کرائی۔دعا کے بعد عید میں شامل ہونے والے احباب کو مصافحہ کا شرف بخشا۔جو تقریباً ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔(روز نامہ الفضل ربوہ ۷ ارنومبر ۱۹۸۰ ء صفحه او۸)