خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 211
خطبات ناصر جلد دہم ۲۱۱ خطبہ عیدالاضحیہ یکم نومبر ۱۹۷۹ء خانہ کعبہ اور حج سے وابستہ یاد کا تعلق محبت اور عشق سے ہے خطبہ عیدالاضحی فرموده یکم نومبر ۱۹۷۹ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو دین دنیا کی طرف لے کر آئے وہ ہر جہت سے ایک کامل اور مکمل دین ہے۔ایک کامل اور مکمل دین ہونے کے معنے یہ ہیں کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جو قویٰ دیئے ہیں۔ہر قوت کی راہنمائی اور ہدایت کے لئے اس میں سامان پائے جاتے ہیں اس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس طور پر بھی بیان کیا ہے کہ اسلام انسان کے درخت وجود کی ہر شاخ کو سرسبز کرتا اور اس کی زندگی کے سامان پیدا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل بھی دی اور جذبات بھی عطا کئے اس لئے دین اسلام کے ہر حکم کو ماننے کے لئے یا اس کے ہر حکم کو منوانے کے لئے عقل کو بھی استعمال کیا یعنی عقلی دلائل دے کر سمجھایا کہ تمہارا فائدہ اس میں ہے کہ تم خدا کی بات مانو تمہارا دنیوی فائدہ بھی اس میں ہے اور تمہارا روحانی فائدہ بھی اس میں ہے۔اور دین اسلام نے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے متعلق جو تعلیم دی وہ تعلیم ہمارے سامنے اس عز وجل کے حسن کو کچھ اس طرح پیش کرتی ہے کہ وہ انسان جو خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل کرتا ہے، خدا سے پیار کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔اور دین اسلام نے