خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 209
خطبات ناصر جلد دہم ۲۰۹ خطبہ عید الاضحیه ۱۲ / نومبر ۱۹۷۸ء ہے۔پس خلاصہ یہ نکلا کہ انسان کی ساری قربانیوں کی بنیاد ہے تربیت کے اس عروج پر جسے ہم ایک لفظ اطاعت کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں۔ہمیں یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ تو فیق عطا کرے کہ ہم اس کے احکام کو بشاشت کے ساتھ اور محبت اور پیار کے ساتھ ماننے والے ہوں۔دنیا میں طاقت کے زور سے بھی بات منوائی جاتی ہے لیکن خدا کے بزرگ اور پاک بندہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے طاقت کے زور سے نہیں بلکہ پیار کے ساتھ اپنی باتیں منوائیں اور لوگوں کے دلوں میں خدا کا پیار پیدا کر کے اپنی باتیں منوائیں آپ نے پیار سے لوگوں پر یہ ثابت کیا کہ جن باتوں کے کرنے کا تمہیں کہا جاتا ہے۔ان کے کرنے میں تمہارا فائدہ ہے اور جن کے چھوڑنے کا حکم ہے یعنی جو نواہی ہیں ان کے چھوڑنے میں تمہاری بھلائی اور ترقی و خوشحالی کا راز پس اسلام کا خلاصہ ایک لفظ میں اطاعت ہے اور اسے ذرا پھیلا ئیں تو یہ بنتا ہے کہ انسان اپنی گردن برضا و رغبت خدا تعالیٰ کے احکام کی چھری کے سامنے اسی طرح رکھ دے جس طرح عید قربان کا بکر اقصائی کی چھری کے نیچے اپنی گردن رکھ دیتا ہے۔مگر بکرا اپنی مرضی سے ایسا نہیں کرتا۔اسی طرح انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی گردن خدا کے سامنے جھکا دے۔بکرے کی نسبت انسان کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔انسان سمجھدار، عقلمند اور صاحب اختیار ہوتا ہے وہ اپنی مرضی سے اپنے فائدہ کے لئے خدا تعالیٰ کی معرفت کے حصول کے بعد خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے خوف کے سمندروں میں غرق ہو کر اپنی گردن خدا کے آگے جھکا دیتا ہے اور کہتا ہے۔اے میرے مولا ! تیری جو مرضی ہے ہم اس پر راضی اور خوش ہیں۔تب خدا تعالیٰ پیار سے اپنے ایسے بندہ کو اٹھا تا ہے۔اور اسے اتنی نعمتیں اور برکتیں ملتی ہیں کہ دنیا دار اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔میری دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس سبق کے سیکھنے کی توفیق عطا کرے جو اس عید سے وابستہ ہے اور اپنے نیک بندوں میں ہمیں داخل کرے۔اب میں ہاتھ اٹھا کر دعا کروں گا۔اللہ تعالیٰ سب احباب جماعت کو عید مبارک کرے۔(روز نامه الفضل ربو ه ۲۶ / مارچ ۱۹۷۹ ء صفحه ۲ تا ۴)