خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 208 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 208

خطبات ناصر جلد دہم ۲۰۸ خطبہ عیدالاضحیه ۱۲ /نومبر ۱۹۷۸ء محبت اور خوف پیدا ہو جاتا ہے تو اس کے نتیجہ میں ایک ذہنیت پیدا ہوتی ہے اور وہ ہے سَبْعًا وَ طَاعَةً پھر انسان اپنے محبوب سے سوال نہیں کرتا بلکہ وہ اس سے کہتا ہے جو تو کہتا جائے گا میں کرتا چلا جاؤں گا۔قرآن کریم نے کئی آیات میں اس مضمون کو مختلف پیرائے میں مختلف سیاق و سباق میں بیان کیا ہے۔ایک جگہ یہ کہا وَ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا (البقرة :۲۸۶۲) فرمایا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ پر ایمان لانے والے لوگوں کی زبان پر یہ ہوتا ہے کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔یعنی جب کوئی حکم ان کے کان میں پڑے اور ان کے سامنے پیش ہو تو سوائے اطاعت کے اور کوئی اظہار نہیں ہوتا اور پھر باوجود یکہ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا میں قَالُوا میں جو ضمیر ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھی پھرتی ہے اور آپ کے ماننے والوں کی طرف بھی۔ایمان لانے اور اس کے مطابق عمل کرنے کے با وجود یہ کہتے ہیں غُفْرَانَكَ رَبَّنَا اے ہمارے خدا! ہم تیری مغفرت کے محتاج ہیں۔پس یہ وہ اطاعت ہے جو محبت کے بغیر پیدا نہیں ہوتی اور یہی وہ اطاعت ہے جسے دنیا نے اُمت مسلمہ کے ہزاروں لاکھوں انسانوں میں بڑے تعجب اور حیرت سے بھی اور پیار سے بھی دیکھا۔حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود انسانی ارتقا کا معراج تھا۔آپ نے خدا تعالیٰ کی ایسی اطاعت کی۔محبت الہی میں ایسے فنا ہوئے اور خدا کا ایسا پیار حاصل کیا اور خدا کی راہ میں اپنے اوپر موت وارد کر کے ایک ایسی نئی زندگی پائی اور ایسا بلند اور ارفع و اعلیٰ مقام حاصل کیا کہ کوئی انسان وہ مقام حاصل نہ کر سکا۔آپ نے دنیا کے سامنے ایک اعلیٰ نمونہ پیش کیا کہ جس سے بہتر کوئی اور نمونہ انسان کے سامنے پیش نہیں کیا جا سکتا۔جو لوگ آپ پر ایمان لائے انہوں نے بھی اپنی قوت اور طاقت کے مطابق خدا تعالیٰ کے احکام پر پورا پورا عمل کیا اور ان سے گریز کا کوئی راستہ تلاش نہیں کیا۔ایسا لگتا ہے کہ ان کے اندر عدم اطاعت، نافرمانی کی کوئی طاقت باقی ہی نہیں رہی تھی اس لئے کہ ان کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت کا ایک سمندر موجزن ہو گیا تھا اس کے بعد تو پھر یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ انسان شیطان کی طرح انکار اور استکبار کی راہ اختیار کرے اور یہ نتیجہ ہے اس معرفت الہی کا جس سے اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی خشیت پیدا ہوتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے۔انسان محبت اور خشیت اللہ کے نتیجہ میں اپنی زندگی کے مقصد کو پالیتا ہے۔