خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 207 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 207

خطبات ناصر جلد دہم ۲۰۷ خطبہ عیدالاضحیه ۱۲ / نومبر ۱۹۷۸ء ترقیات کے حصول کے دروازے کھولے جائیں گے اور جب وہ مرورِ زمانہ کے ساتھ بگڑ بھی جائیں گے تو ان کے اندر ایسی چھپی ہوئی طاقتیں موجود رہیں گی کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوں گے اور لوگ آپ پر ایمان لائیں گے تو یہ طاقتیں پھر سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل لوگوں میں زندہ کی جائیں گی اور جوانی کے حالات ان میں پیدا ہوں گے۔نئی قوت ، تازگی، طاقت اور بشاشت ان میں پیدا ہو جائے گی۔پس جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا ہے۔اس قسم کی قربانیاں محبت کے بغیر نہیں دی جاسکتیں۔نہ دی جایا کرتی ہیں اور محبت پیدا نہیں ہو سکتی جب تک خدا تعالیٰ کی صفات کی معرفت حاصل نہ ہو۔جب انسان خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت حاصل کر لیتا ہے تو اسے دو چیزیں ملتی ہیں۔ایک اللہ تعالیٰ کی محبت کیونکہ خدا تعالیٰ کی ذات وصفات میں اس قدر حسن ہے کہ انسانی روح اس کے ساتھ پیار کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتی وہ مجبور ہو جاتی ہے کہ خدا سے پیار کرے اور دوسرے یہ خوف کہ اللہ تعالیٰ بڑی عظیم ہستی ہے۔وہ صاحب جلال واکرام ہے۔تمام قوتوں کا سر چشمہ ہے ،حسن و احسان کا منبع ہے کہیں وہ ہم سے ناراض نہ ہو جائے۔پس اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت کے نتیجہ میں انسان کے دل میں محبت اور خوف پیدا ہوتا ہے اور جب کسی انسان کو معرفت حاصل ہو جائے اور اس کے نتیجہ میں محبت اور خوف حقیقی معنے میں پیدا ہو جائے تو اس کی نجات کے سب وسائل اسے حاصل ہو جاتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ سے اسی طرح پیار کرنے لگتا ہے جس طرح کہ اس تربیت کا جو سلسلہ جاری ہوا اس کی ابتدا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے صاحبزادہ اسماعیل علیہ السلام نے اس محبت کا اظہار کیا اپنے رب کے ساتھ اور پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اتنا عظیم نمونہ دنیا کے سامنے خدا تعالیٰ کے پیار کا پیش کیا اور اس نمونہ کے اثر کے نتیجہ میں آپ کے صحابہ میں وہی رنگ چڑھا۔چنانچہ اُمت مسلمہ میں لاکھوں کروڑوں خدا کے ایسے بندے پیدا ہوئے جو خدا تعالیٰ کے ساتھ اس کی معرفت کے نتیجہ میں پیار کرنے والے تھے اور چونکہ خدا تعالیٰ سے پیار کرنے والے تھے اور اس کی ناراضگی کے خیال سے ہر وقت خوفزدہ رہتے تھے۔دنیا کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔انسان میں جب اللہ تعالیٰ کی رض