خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 203
خطبات ناصر جلد دہم خطبہ عید الاضحیہ ۲۲ نومبر ۱۹۷۷ء لوگ حج کرنے کے لئے آتے ہیں۔میرا خیال ہے ہمارے پاکستان سے حاجیوں کو لے کر جو پہلا جہاز گیا تھا وہ عید الفطر کے دن یا اس سے اگلے دن روانہ ہوا تھا قریباً دو ماہ دس دن پہلے جس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے حاجی ایسے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے چار چار ماہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کئے۔وہاں کے رہنے والوں نے چند دن خرچ کئے ہوں گے۔مکہ کے گر در ہنے والوں نے ایک دو ہفتے خرچ کئے ہوں گے۔بہر حال یہ جو چار ماہ یا تین ماہ یا دو ماہ یا ایک ماہ خرچ کیا اگر ہر آدمی کا وقت شمار کیا جائے تو یہ بھی ایک زمانہ سالہا سال بن جائیں گے۔اس عرصہ میں انہوں نے اپنے روز مرہ کے کام چھوڑ کر خدا کی خاطر وقت صرف کیا اور پیسے نہیں کمائے جو وہ معمول کے مطابق کمایا کرتے تھے۔بعض ایسے لوگ بھی حج کرنے جاتے ہیں جو دس دس ، نہیں ہیں اور پچاس پچاس ہزار روپیہ مہینہ کمانے والے ہیں۔بعض ایسے بھی جاتے ہیں جو ہیں پچیس روپے روزانہ کی مزدوری کرنے والے ہیں۔پس فریضہ حج مالی لحاظ سے بھی بہت بڑی قربانی کا مطالبہ کرتا ہے اور وقت کے لحاظ سے میں نے بتایا ہے کہ بہت بڑا وقت خرچ کیا جاتا ہے۔یہ ساری چیزیں ہمیں اس بات کا سبق دیتی ہیں کہ بیت اللہ کی تعمیر کے جو مقاصد ہیں جن کو پورا کرنے کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عظیم ہستی کو مبعوث کیا گیا ہے، ان مقاصد کے حصول کے لئے ایک سچے مسلمان کو اپنی زندگی خرچ کرنی چاہیے خصوصاً اس زمانہ میں جب کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابیاں اپنے عروج کو پہنچ رہی ہیں اور وہ آخری زمانہ آچکا ہے جس کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ اس زمانہ میں اسلام تمام ادیان باطلہ پر غالب آئے گا اور بھٹکی ہوئی انسانیت پھر راہ ہدایت پا کر محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس لوٹے گی اور آپ کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے گی۔پس بیت اللہ کی تعمیر کے مقاصد اپنی پوری شان کے ساتھ حاصل ہونے کا یہی زمانہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پوری تندہی کے ساتھ ان قربانیوں کا زمانہ ہے جن کا یہ فریضہ ہم سے مطالبہ کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے فرائض سمجھنے اور ان کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔روزنامه الفضل ربوه ۲ /جنوری ۱۹۷۸ ، صفحه ۲، ۳)