خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 193 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 193

خطبات ناصر جلد دہم ۱۹۳ خطبہ عیدالاضحیه ۱۴ / دسمبر ۱۹۷۵ء نظارہ نہ دیکھتی جس نے بنی نوع انسان کے لئے ایک اسوہ بننا تھا۔اگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اس وقت ذبح کردیا جاتا تو یہ مطالبہ جو تھا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولا دنسلاً بعد نسل اپنی زندگیاں خدا کی راہ میں قربان کرنے والی ہوں، اس کا موقع ہی نہ ملتا۔نہ نسل پیدا ہوتی اور نہ ان کی قربانی کا کوئی سوال پیدا ہوتا۔اس واسطے خدا تعالیٰ نے ایک ذبح عظیم کے لئے اس چھوٹی سی قربانی کو ترک کروایا اور ایک ریتلے میدان میں جس میں نہ پانی تھا اور نہ کھانے کی کوئی اور چیز بھی وہاں ان کو اپنی والدہ کے ساتھ چھوڑ دیا گیا اور پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت نے وہاں پانی کے سامان بھی پیدا کر دیئے اور کھانے کے سامان بھی پیدا کر دیئے محض کھانے پینے کے سامان ہی پیدا نہیں کئے بلکہ دنیا جہان کی نعمتیں ان کے لئے مہیا کر دیں ، دنیا جہان کے دلوں کی محبت کا اسے مرکز بنادیا اور صرف اس دنیا کے ثمرات ہی نہیں بلکہ ان کو وہ روحانی ثمرات بھی مہیا کئے گئے جن کا مادی دنیا سے کوئی تعلق نہیں اور اس طرح حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام دنیا کے لئے ایک عظیم اسوہ بنے۔ان کا زمانہ اگر چہ ایک محدود زمانہ تھا کیونکہ وہ جس کا زمانہ رہتی دنیا تک ممتد تھا وہ ابھی آنے والا تھا لیکن انہوں نے اپنی نسلوں کو ایک زمانے تک سنبھالا اور ایک لمبا عرصہ ان نسلوں نے خدا کی راہ میں قربانیاں دیں۔جان کی قربانی نہیں بلکہ زندگی کی قربانی دی۔میں پہلے بھی ان دو چیزوں میں فرق کر کے جماعت کے سامنے اس مسئلہ کو رکھتا چلا آیا ہوں۔ایک ہے جان قربان کر دینا جس کے صلے میں شہادت کا انعام ہے اور ایک ہے اپنی زندگی قربان کر دینا یعنی زندگی کا ہر سانس خدا کی راہ میں قربان کر دینا اور اس کے صلہ میں اجر عظیم کا وعدہ ہے گو یا شہادت کی نسبت زندگی کی قربانی کا بہت زیادہ اثر ہے۔بہر حال دعائیں ہوئیں۔خانہ کعبہ کی از سرنو تعمیر ہوئی۔ایک مرکز کا قیام ہوا۔اس مرکز کے انتظام کے لئے ایک نسل پیدا کر دی گئی اور پھر ایک کے بعد دوسری نسل نے اس کا انتظام سنبھالا۔وہ جو اکیلے تھے ( یعنی اسماعیل اور اس کی والدہ) ان کی نسل میں سے ایک خاندان کے سپر د پانی کا انتظام اور ایک کے ذمہ صفائی کا انتظام وغیرہ وغیرہ گویا یہ انتظام مختلف شعبوں میں بٹ گیا ہر ایک نے اپنے زمانہ کے حالات اور ذرائع کے مطابق اپنا کام سنبھالا۔یہ سب کچھ اس لئے ہورہا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں پیدا ہونا تھا اور اس تیاری کے لئے ایک عظیم قربانی