خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 192
خطبات ناصر جلد دہم ۱۹۲ خطبہ عیدالاضحیه ۱۴ / دسمبر ۱۹۷۵ء کو اس شخص ( کے کام ) کی طرح سمجھ لیا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا اور اس نے اللہ کے راستہ میں جہاد کیا یہ دونوں گروہ ) اللہ کے نزدیک (ہرگز ) برابر نہیں۔اور اللہ ظالم قوم کو ہرگز کامیابی کی طرف نہیں لے جاتا۔( وہ لوگ ) جو ( کہ ) ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور ( پھر ) اللہ کے راستہ میں اپنے مالوں ( کے ذریعہ سے بھی ) اور جانوں کے ذریعہ سے ( بھی ) جہاد کیا اللہ کے نزدیک درجہ میں بہت بلند ہیں اور وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ان کا رب ان کو اپنی عظیم الشان رحمت کی خبر دیتا ہے اور (اپنی) رضامندی اور ایسی جنتوں کی بھی جن میں ان کے لئے دائمی نعمت ہوگی۔(وہ) ان میں بستے چلے جائیں گے (یا درکھو کہ ) اللہ کے پاس یقیناً بہت بڑا اجر ہے۔پھر حضور انور نے فرمایا:۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک رؤیا میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں چنانچہ اس خیال سے کہ اللہ کی راہ میں جان دینے کے بارہ میں گریز نہ سمجھا جائے، انہوں نے پہلے تو اپنے بیٹے سے یہ پوچھا کہ تیری رائے کیا ہے کیونکہ نیک اعمال دوسروں پر ٹھونسے نہیں جاتے۔جب حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی خدا کی راہ میں جان دینے کے لئے راضی ہو گئے تو انہوں نے اپنے بیٹے کولٹایا اور اس کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہو گئے تب خدا نے فرمایا کہ جس قسم کی قربانیوں کے لئے میں تمہارا امتحان لینا چاہتا تھا ان کے لئے میں نے تمہیں تیار پایا اور مستعد دیکھا۔میں تم سے یہ قربانی نہیں مانگتا کہ تم اپنے بیٹے کی جان دے دو۔جان کی بجائے میں اپنی راہ میں تمہاری زندگی کا ہر سانس مانگتا ہوں۔تم اسمعیل کو ایک بے آب و گیاہ ریتلے میدان میں چھوڑ آؤ اور پھر دیکھو میری قدرت دنیا کو کیا نظارہ دکھاتی ہے۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہوئے ، صرف اس عزم پر قائم رہتے ہوئے کہ جتنی بھی زندگی ہے اس کا ہر سانس خدا تعالیٰ پر قربان ہوگا ، وہاں چھوڑ آئے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام وہاں رہنے کے لئے تیار ہو گئے۔اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی چھری حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر ڈالتی تو وہ جو زندگی کا ہر سانس عملاً خدا کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار تھا دنیا اس کی اس عظیم قربانی کا