خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 191
خطبات ناصر جلد دہم ۱۹۱ خطبہ عیدالاضحیه ۱۴ / دسمبر ۱۹۷۵ء ساتھ ) اسمعیل بھی (اور وہ دونوں کہتے جاتے تھے کہ ) اے ہمارے رب! ہماری طرف سے اس خدمت کو قبول فرما۔تو ہی بہت سننے والا (اور ) بہت جاننے والا ہے۔اے ہمارے رب! اور (ہم یہ بھی التجا کرتے ہیں کہ ) ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار (بندہ) بنالے اور ہماری اولاد میں سے بھی اپنی ایک فرمانبردار جماعت (بنا) اور ہمیں ہمارے ( مناسب حال ) عبادت کے طریق بتا اور ہماری طرف (اپنے) فضل کے ساتھ توجہ فرما۔یقینا تو ( اپنے بندوں کی طرف) بہت توجہ کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے اور اے ہمارے رب ! ( ہماری یہ بھی التجا ہے کہ تو انہی میں سے ایک ایسا رسول مبعوث فرما جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے یقینا تو ہی غالب ( اور ) حکمتوں والا ہے۔مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ اَنْ يَعْمُرُوا مَسْجِدَ اللهِ شَهِدِينَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ أُولَبِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَ فِي النَّارِ هُمْ خَلِدُونَ - إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسْجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلوةَ وَأَتَى الزَّكوةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ فَعَسَى أُولَبِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ - اجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجَ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَ جَهَدَ فِي سَبِيلِ اللهِ لَا يَسْتَوْنَ عِنْدَ اللهِ وَاللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ - اَلَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجْهَدُوا فِي سَبِيلِ اللهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ وَ أُولَبِكَ هُمُ الْفَابِزُونَ - يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنْتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُّقِيمٌ - خُلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا إِنَّ اللهَ عِنْدَةٌ أَجْرُ عَظِيمٌ - (التوبة: ۱۷ تا ۲۲) ترجمہ:۔(ایسے) مشرکوں کو (کوئی) حق نہیں پہنچتا کہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وہ اپنی جانوں پر (شرک اور فسق کی وجہ سے ) کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔یہی لوگ ہیں جن کے اعمال اکارت چلے گئے اور وہ آگ میں ایک لمبے عرصہ تک رہتے چلے جائیں گے۔اللہ کی مسجدوں کو تو وہی آباد کرتا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے اور نمازوں کو قائم کرتا ہے اور زکوۃ دیتا ہے اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا سوقریب ہے کہ ایسے لوگ کامیابی کی طرف لے جائے جائیں۔کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور خانہ کعبہ کو آبا در رکھنے کے کام )