خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 189
خطبات ناصر جلد دہم ۱۸۹ خطبہ عید الاضحیه ۱۴ ؍دسمبر ۱۹۷۵ء حضرت ابراہیم اور آپ کی نسلوں نے محمد کے لئے عظیم قربانیاں دیں خطبہ عیدالاضحیه فرموده ۱۴ / دسمبر ۱۹۷۵ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل آیات مع ترجمہ تلاوت فرمائیں :۔فَبَشِّرْتهُ بِغُلَمٍ حَلِيمٍ - فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعَى قَالَ يُبْنَى إِنِّي أَرى فِي الْمَنَامِ أَنِّي اذْبَحُكَ فَانْظُرُ مَا ذَا تَرى قَالَ يَااَبَتِ افْعَلُ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِى إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصُّبِرِينَ - دو فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ - وَنَادَيْنَهُ أَنْ يَا بُرهِيمُ - قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِينَ - إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلوُا الْمُبِينُ - وَفَدَيْنَهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ - وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ۔(الصفت : ۱۰۲ تا ۱۰۹) ترجمہ:۔تب ہم نے اس کو ایک حلیم لڑکے کی بشارت دی۔پھر جب وہ لڑکا اس کے ساتھ تیز چلنے کے قابل ہو گیا تو اس نے کہا اے میرے بیٹے ! میں نے تجھے خواب میں دیکھا ہے کہ (گویا) میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔پس تو فیصلہ کر کہ اس میں تیری کیا رائے ہے؟ (اس وقت بیٹے نے ) کہا اے میرے باپ! جو کچھ تجھے خدا کہتا ہے وہی کر۔تو انشاء اللہ مجھے اپنے ایمان پر قائم رہنے والا دیکھے گا۔پھر جب وہ دونوں فرمانبرداری پر آمادہ ہو گئے اور اس (یعنی باپ ) نے اس (یعنی