خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 164 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 164

خطبات ناصر جلد دہم ۱۶۴ خطبہ عید الاضحیہ ۲۷ / جنوری ۱۹۷۲ء یہ وہ زیرو پوائنٹ اور مرکزی نقطہ ہے جہاں سے دن شروع ہوگا۔کیونکہ ہمیں یہ پختہ یقین ہے کہ انشاء اللہ اسلام ساری دنیا پر غالب ہوگا اور پھر پہلے سے بنے ہوئے یہ فارمولے منسوخ کر دیئے جائیں گے اور پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیئے جائیں گے اور انشاء اللہ ایک دن وہ وقت بھی آجائے گا کہ ساری دنیا کا دن مگی دن سے شروع ہوگا اور اسی کے مطابق ہماری گنتیاں ہوں گی اور ہمارے مسائل حل ہوں گے۔خدا کرے کہ وہ دن جلد طلوع ہو اور خدا کرے کہ وحدت اقوامی کے لئے ہماری یہ کوشش بار آور ہو۔میں نے رات کو بڑی دعا کی کہ اے میرے خدا! مجھ سے کوئی غلط فیصلہ نہ ہو جائے۔اس لئے میں نے یہاں ساری چیزیں کھول کر بیان کر دی ہیں کہ ہم آئندہ سے یہ عید الاضحیہ یعنی قربانیوں کی عید حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس فارمولے کے مطابق منائی تھی ، اس کے مطابق منائیں گے یعنی مکہ مکرمہ میں جس فارمولے کے مطابق عید الاضحیہ منائی جاتی ہے کہ اس کے مطابق عید منائیں گے۔خدا تعالیٰ ہماری غلطیوں کو معاف فرمائے اور ہماری طاقتوں میں اضافہ فرمائے اور جو اس کی شرائط قانونِ قدرت یا قانونِ شریعت ہیں ان کے مطابق جس طرح ہم دوسرے کاموں کے لئے مختلف وقتوں میں سورج کے طلوع اور غروب کے اختلاف کے باوجود ایک دن مقرر کر دیتے ہیں۔اسی طرح ہم عالم اسلامی کے لئے یا بعد میں دوسرے درجہ پر عالم انسانی کے لئے مکہ مکرمہ سے طلوع ہونے والے دن سے ساری دنیا کے دنوں کو باندھیں اور خدا کرے کہ اس طرح وحدت اقوامی کا دن قریب سے قریب تر آ جائے۔اللهم آمین۔حضورانور جب خطبہ ثانیہ پڑھنے لگے تو فرمایا:۔یہی دعا میں شروع میں بھی پڑھ چکا ہوں۔وہ طوعی تھی اب سنت کے مطابق میں اس کو دہرا رہا ہوں۔چنانچہ خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا اب میں دعا کراؤں گا۔سب دوست دعا کریں کہ دنیا میں جو اس وقت انقلاب آ رہا ہے کبھی وہ ہمیں سمجھ آتا ہے اور کبھی وہ بات ہماری سمجھ سے دور ہوتی ہے۔ہم سمجھیں یا نہ سمجھیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان تمام تبدیلیوں اور انقلابات کے نتیجہ میں ایسے