خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 163 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 163

خطبات ناصر جلد دہم ۱۶۳ خطبہ عید الاضحیہ ۲۷ / جنوری ۱۹۷۲ء منانے کی تیاری کریں۔گو مجھے اس کا ذاتی طور پر علم نہیں لیکن میں نے سنا ہے کہ حکومت حجاز بعض دفعہ چاند نکلنے کے دو تین دن اور بعض دفعہ چار دن کے بعد اعلان کرتی ہے کہ کس دن چاند ہوا اور کون سا دن حج کا ہے لیکن اب ساری دنیا کے احمدیوں کی ان سے یہ درخواست ہوگی کہ وہ عید الاضحیہ کے چاند کا اعلان ۲۴ گھنٹے کے اندر اندر کر دیں تا کہ اس تاریخ کے مطابق ساری دنیا کی احمدی جماعتیں عیدالاضحیہ منانے کا انتظام کرسکیں۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے زمین کی جو گردش ہے اس کے لحاظ سے ہمیں ایک دن مختلف شکلوں میں بنانا پڑے گا تاہم عُرف عام میں اور ہماری اپنی سوچ بچار میں وہ ایک ہی دن سمجھا جاتا ہے بالکل اسی طرح سے جس طرح کہ یکم جنوری ۱۲ گھنٹے کے فرق کے باوجود پاکستان اور امریکہ میں ایک ہی تاریخ کہلاتی ہے آپ نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ یہ دو تاریخیں ہوگئی ہیں حالانکہ ایک ملک میں سورج چھ بجے طلوع ہوا اور دوسرے میں اسی پہلے ملک کے وقت کے لحاظ سے شام کے چھ بجے طلوع ہوا لیکن دونوں جگہ یکم جنوری کی تاریخ کہلاتی ہے کیونکہ عملاً دونوں جگہ یکم جنوری کی تاریخ کارفرما ہے اور ہم نے اپنے تمام مسائل اور کاموں میں یکم جنوری شمار کی ہے۔پس ہم عید الاضحیہ کے ایک ہونے کی ابتدا کر رہے ہیں اور ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عید کے ساتھ اپنی عید کو باندھتے ہیں ان تمام شرائط کے ساتھ جو قانون قدرت نے ہم پر عائد کی ہیں یا در ہے کہ بعض شرائط قانون شریعت عائد کرتا ہے اور بعض شرائط قانون قدرت عائد کرتا ہے۔غرض ان تمام شرائط کے ساتھ جو قانون شریعت یا قانون قدرت نے ہم پر حاوی کی ہیں تمام دنیا کی احمدی جماعتیں ایک دن عید الاضحیہ منایا کریں گی اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس میں برکت ڈالے۔میری ایک اور درخواست دنیا کے تمام ممالک سے یہ ہے کہ وہ اس وقت دن کی ابتدا یعنی اس کرہ ارض کے دن کی ابتدا ایک نقطہ جسے زیرو پوائنٹ کہتے ہیں اس سے کرتے ہیں مگر میرے خیال میں یہ نقطہ مکہ مکرمہ ہونا چاہیے کیونکہ وہ اُم القری ہے۔وہ تمام بستیوں کی ماں ہے۔پس