خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 162 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 162

خطبات ناصر جلد دہم ۱۶۲ خطبہ عید الاضحیہ ۲۷ جنوری ۱۹۷۲ء کے لئے ایک دن عید الاضحیہ منانے کی ضرورت ہو (جیسا کہ یہ زمانہ آ گیا ہے ) تو تم سب بشاشت کے ساتھ اس دن عید مناؤ۔لیکن چونکہ قانون قدرت میں زمین کی شکل اور اس کے محور کو جس طرح خدا تعالیٰ نے چاہا ہے بنایا ہے اس لئے ہمیں اللہ تعالیٰ کے اس قانون کے مطابق تفاصیل طے کر کے ان کا اعلان بعد میں کرنا پڑے گا۔لیکن اس کے نتیجہ میں یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ ایک دن عید نہیں ہوئی کیونکہ لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کی رو سے عید ایک ہی دن ہوگی اور یہ بڑی عید یعنی عید الاضحیہ کا ذکر ہو رہا ہے جو مکہ مکرمہ کی عید کے ساتھ مطابقت کھائے گی۔پس فقہا کے کہنے کے مطابق کہ اگر شرائط ( جو کہ انڈرسٹوڈ (Under Stood ) یعنی معلوم ہیں ) کی رو سے جتنے آدمیوں کی ضرورت ہے وہ یہ گواہی دے دیں کہ چاند نظر آ گیا ہے تو اگر یہ معتبر آدمی ہیں اور ان کی رؤیت پر اعتبار کیا جاسکتا ہے تو ان کے کہنے کے مطابق ایک جگہ چاند دیکھنے پر حاکم وقت یا امام وقت سارے ملک کو عید کرنے کے متعلق کہہ سکتا ہے۔اس لئے آج یہ عاجز بندہ جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت احمدیہ کا امام بنایا ہے گو یہ جماعت دنیا کی دھتکاری ہوئی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں معزز ہے ) یہ اعلان کرتا ہے کہ اس کے وہ بھائی جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور جو معتبر ہیں اور جن کی شہادت قابل قبول ہے اور وہ دنیوی معاملات میں سچ بولنے والے اور صداقت کو اختیار کرنے والے ہیں۔مکہ مکرمہ میں ان کی جو رؤیت ہوگی اس رؤیت کو صحیح قرار دیا جاتا ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس کے مطابق ایک ہی دن یعنی مکہ مکرمہ کی عید الاضحیہ کے دن ساری دنیا کی احمدی جماعتیں عید الاضحیہ منائیں گی۔اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالے اور وہ ہمیں وحدت اقوامی کی مہم میں انتہائی کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور خدا کرے کہ مکہ مکرمہ پر جو پہلے سے بھی زیادہ ذمہ داری پڑ گئی ہے وہ اسے نباہ سکے کیونکہ پہلے انہوں نے اپنے علاقہ کی ضرورتوں کے مطابق کوئی انتظام کیا ہوا تھا اب انہیں ساری دنیا کو سامنے رکھ کر انتظام کرنا پڑے گا۔اب دنیا کے تمام ممالک کے ایک حصے کی طرف سے ان سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ انہیں وقت پر اطلاع دیں تا کہ اس کے مطابق عید الاضحیہ