خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 161
خطبات ناصر جلد دہم 171 خطبہ عید الاضحیہ ۲۷ جنوری ۱۹۷۲ء آگے نہیں جائے گا اور میرے کہنے کا یہی مطلب ہے کہ ہر جگہ ایک ہی دن عید ہو گی۔اس واسطے کہ لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة: ۲۸۷) کی رو سے انسان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا گیا۔اسلام کے غلبہ کے لئے قربانی دینے کے سلسلہ میں انسانی طاقت کی انتہا یہ ہے کہ اگر جان کی قربانی مانگی جائے تو جان قربان کر دی جائے۔اس سے بڑھ کر انسان سے اور کچھ نہیں مانگا جائے گا۔اگر اموال کی ضرورت ہو تو جتنا مال مانگا جائے یا جتنے مال کی تم ضرورت سمجھتے ہو اور دے سکتے ہو وہ تم دے دو۔چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک وقت میں یہ سمجھا کہ اس وقت اسلام کو میرے سارے مال کی ضرورت ہے۔اس سمجھ کے ساتھ اگر وہ کچھ رکھ لیتے تو گناہگار ہو جاتے۔چنانچہ انہوں نے اپنا سارا مال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ اس وقت اسلام کے غلبہ کے لئے اور اسلام کی مہم کے سلسلہ میں ان سے جن قربانیوں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اس کے لئے نصف مال کی ضرورت ہے تو انہوں نے اپنا نصف مال لا کر رکھ دیا۔اگر وہ نصف سے ایک دھیلہ کم لے کر آتے تو وہ گناہگار ہو جاتے کیونکہ ان کا ضمیر یہ فیصلہ کر رہا تھا کہ اس وقت اسلام تم سے نصف مال مانگ رہا ہے اور وہ اپنی ضمیر کی آواز کے خلاف کیسے نصف سے کم مال لے آتے۔لیکن بعض دفعہ کہنا پڑتا ہے کہ سارا مال دے دو۔چنانچہ ایک جنگ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ جس کے پاس کھانے پینے کی جو بھی چیز ہے وہ لا کر ایک جگہ جمع کر دے۔چنانچہ جس کے پاس تین من کھجور تھی اس کے لئے بھی ایک مقررہ مقدار میں راشن مقرر کر دیا گیا۔غرض قربانی کا مطالبہ حالات پر منحصر ہے۔اگر اسلام کے غلبہ کی مہم ہم سے اس وقت ہماری ساری زندگی کا مطالبہ کرتی ہے تو ہمیں اپنی ساری زندگی وقف کر دینی چاہیے۔میں نے بتایا ہے کہ ایک جان کی قربانی ہوتی ہے اور ایک زندگی کی قربانی ہوتی ہے۔پس اگر جان کی قربانی کی ضرورت ہے تو تم جان دے دو۔اگر زندگی کی قربانی کی ضرورت ہے تو تم زندگی قربان کر دو۔اگر مال کی ضرورت ہے تو تم مال دے دو۔اگر اولاد کی قربانی کی ضرورت ہے تو تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنی اولادکو خدا کی راہ میں قربان کر دو اور اگر وحدت اقوامی کے قیام