خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 156 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 156

خطبات ناصر جلد دہم ۱۵۶ خطبہ عید الاضحیہ ۲۷ جنوری ۱۹۷۲ء اس کے مطابق حج نہیں ہوتا یا امریکہ میں جس دن اس مہینے کا چاند دیکھا جائے۔اس کے مطابق حج کی تاریخ نہیں مقرر کی جاتی یا پاکستان یا افغانستان یا ہندوستان کے مسلمان اگر مہینے کا چاند دیکھیں تو اس دن سے حج کی تاریخ معین نہیں ہوتی۔گوج کا تعلق رؤیت ہلال سے ہے۔مگر یہ اس رؤیت ہلال سے ہے جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے تعلق رکھتی ہے اور یوم حج یا جسے یوم عرفہ بھی کہتے ہیں اس کے علاوہ کسی اور رؤیت کے ساتھ ہو ہی نہیں سکتا۔پس حج کا فریضہ وحدت اقوامی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک ذریعہ ہے ویسے اس کے علاوہ اس کے اور بہت سارے فوائد ہیں۔اس لئے کسی کو یہ گمان نہ گزرے کہ اس کا یہی ایک فائدہ ہے۔اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں اس کی صفات کے بے شمار جلوے کارفرما ہیں۔جہاں تک فریضہ حج کا وحدت اقوامی کے ساتھ تعلق ہے۔یہ ایک اصولی چیز ہے جس کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی وضاحت سے روشنی ڈالی ہے شاید کسی نو عمر یا کم علم کو دھوکا نہ لگے۔اس لئے میں نے ضمنا یہ بات بیان کر دی ہے۔بہر حال فریضہ حج کا ایک بڑا فائدہ اور اس کا ایک بڑا مقصد وحدت اقوامی کے قیام میں ممد و معاون بننا ہے اور حج کا تعلق اگر چہ رویت ہلال سے ہے۔مگر یہ اس رؤیت ہلال سے ہے جو مکہ مکرمہ میں رونما ہو۔دوسری چیز میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے سارے کے سارے علماء اور فقہاء ( یعنی مختلف فقہی خیالات رکھنے والے بھی اس بات پر قریباً متفق ہیں کہ اگر کسی ملک کے ایک حصے میں چاند نظر آجائے اور باقی سارے ملک میں چاند نظر نہ آئے اور جہاں چاند نظر آئے وہاں چاند دیکھنے والے یعنی رؤیت ہلال کی گواہی اور شہادت دینے والے معتبر اور ثقہ لوگ ہوں یعنی ان پر اعتبار کیا جا سکتا ہو تو امام وقت یا حاکم وقت یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ سارا ملک ایک ہی دن عید منائے گا۔ویسے فقہاء نے روزہ کے متعلق بھی یہ کہا ہے کہ ایک ہی دن روزہ رکھا جائے گا۔مگر یہ اس صورت میں ہے کہ جہاں تک اس حاکم وقت یا امام وقت) کی آواز پہنچ جائے یہ نہیں کہ جہاں تک اس کی آواز نہ پہنچے یا اس علاقے میں اگلے دن چاند نظر آئے تو وہ بھی اس کے مطابق پہلا روزہ رکھیں