خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 155
خطبات ناصر جلد دہم خطبہ عیدالاضحیہ ۲۷ جنوری ۱۹۷۲ء پیدا کر کے اپنے دست قدرت کے ساتھ ساری دنیا میں پھیلا دیا اور ان کے متعلق ساری دنیا کو پتہ لگ گیا۔علاوہ ازیں اور بہت سے نشانات ہیں جن میں سے مثلاً ایک قبولیت دعا ہے اور یہ بھی ایک بڑا ز بر دست نشان ہے۔اللہ تعالیٰ کے وہ عاجز بندے جو اس کے دین کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بھی قبولیت دعا کے نشان دکھاتا ہے اور قبولیت دعا کے یہ نشان ہر ملک میں بڑی کثرت سے ظاہر ہورہے ہیں۔یہ نشان مغربی افریقہ میں ، مشرقی افریقہ میں ، انگلستان میں، امریکہ میں، یورپ میں اور جزائر میں بھی ظاہر ہورہے ہیں۔غرض مہدی معہود علیہ السلام کی جماعت اور آپ کے خلفاء کے ذریعہ ہر ملک میں نشان ظاہر ہورہے ہیں۔پس یہ جو تیسری اور ضروری شرط تھی۔وحدت اقوامی کے لئے وہ اس طرح پوری ہورہی ہے که زبر دست نشان ظاہر ہورہے ہیں جن کا پھیلا و علمی لحاظ سے اور نشان کے ظہور کے لحاظ سے یا مجھے یوں کہنا پڑے گا کہ علمی اور ظہوری وسعت ان میں اتنی ہے کہ جو عالمگیر حیثیت رکھتی ہے۔غرض وحدت اقوامی کے لئے یہ ایک قسم کی تمہید تھی اس مسئلے کو سمجھانے کے لئے جس کا آج میں اعلان کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وحدت اقوامی کے لئے ایک آلہ اور ایک ہتھیار جو ہمیں عطا فرمایا ہے وہ حج ہے۔جہاں ساری دنیا کے مسلمان جمع ہوتے ہیں۔چنانچہ اب اس دفعہ اعلان ہوا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک سے پانچ لاکھ مسلمانوں نے مکہ مکرمہ میں جمع ہو کر فریضہ حج ادا کیا ہے۔پس وحدت اقوامی کے لئے حج کا ادارہ اور فریضہ مقرر کیا گیا ہے جس کی ادائیگی کے لئے مختلف ملکوں سے لاکھوں مسلمان مکہ مکرمہ میں جمع ہوتے ہیں اور آپس میں تبادلہ خیالات کرتے ہیں۔اس کے علاوہ حج کے اور بھی ہزار ہا فوائد ہیں۔حج کو چاند کی پہلی یا دوسری تاریخ سے نہیں باندھا گیا بلکہ اس کا تعلق چاند کی نویں تاریخ سے ہے اور جو رؤیت ہلال حج کی نویں تاریخ مقرر کرتی ہے وہ رؤیت ہلال سوائے مکہ مکرمہ کے اور کہیں نہیں یا سوائے عرب کے اور کہیں نہیں۔مثلاً منجھی میں جس دن اس ماہ کا چاند دیکھا جائے۔دو ،،