خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 127 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 127

خطبات ناصر جلد دہم ۱۲۷ خطبہ عید الاضحیہ ۲۲ مارچ ۱۹۶۷ء کیا گیا تھا اور اس کے لئے قرآن کریم نے وضاحت سے بیان کیا ہے کہ ان کو کہا گیا تھا کہ اپنی زندگی خدا کی راہ میں وقف کرو۔ایک عظیم قربانی اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی نسل سے لی لیکن اس قربانی کی غرض یہ تھی کہ جس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں مبعوث ہوں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل جس نے بعد میں عرب میں آباد ہونا تھا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو اور ان قربانیوں کے دینے کے لئے تیار ہو جن کا اسلام نے ان سے مطالبہ کرنا تھا۔اڑھائی ہزار سالہ تربیت کے نتیجہ میں عرب کے اندر یہ استعداد پیدا ہوگئی تھی جس طرح لکڑی کے اندر آگ چھپی ہوئی ہوتی ہے اور جب دیا سلائی دکھائی جائے تو وہ آگ بھڑک اٹھتی ہے اسی طرح یا جس طرح ایٹم کے اندر بہت بڑی طاقت موجود ہوتی ہے لیکن ایک خاص میکنزم کے ذریعہ سے اس طاقت کو جو چھپی ہوئی ہوتی ہے ظاہر کر دیا جاتا ہے اسی طرح عرب کی قوم اڑھائی ہزار سالہ تربیت کے نتیجہ میں ان ذمہ داریوں کے نبھانے کے لئے تیار ہو چکی تھی۔جو ذمہ داریاں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی تعلیم کی رو سے سب سے پہلے اس قوم پر ڈالنی تھیں۔اسلام تمام عالمین کے لئے بطور ہدایت کے دنیا کی طرف بھیجا گیا (اس میں کوئی شک نہیں) لیکن اسلام اور قرآن کے پہلے مخاطب عرب تھے اور اگر عرب اس وقت مستعد نہ ہوتے ، ان کے اندر یہ استعداد اور طاقت پیدا نہ ہو چکی ہوتی تو پھر اسلام کا غلبہ ممکن نہ ہوتا کیونکہ پہلے مخاطب ( یعنی قوم عرب ) نا کام ہو جاتے اور بڑا انتشار دنیا میں پیدا ہوجاتا تو ضروری تھا کہ ایک قوم کی قوم کو ان ذمہ داریوں کے نباہنے کے لئے تیار کیا جائے اور اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو وقف کے لئے کہا گیا اور آپ نے وقف کیا خود کو بھی ، اپنے بیٹے اور نسل کو بھی اور ان کے سپر د جو کام کیا گیا وہ یہ تھا کہ طَهَّرَا بَيْتِيَ لِلطَّابِفِينَ(البقرة :۱۲) میرے اس گھر کو ظاہری اور باطنی پاکیزگی سے بھر دو۔دوسرے یہ کہ دعائیں کرو کہ رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنا (البقرة: ۱۲۸) اے خدا ہم خوشی کے ساتھ اور بشاشت کے ساتھ تیری رضا کے حصول کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں لیکن جب تک تیر افضل شامل حال نہ ہو ہماری یہ قربانی قبول نہیں ہوسکتی۔اس لئے اب فضل فرما رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنا