خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 126 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 126

خطبات ناصر جلد دہم ۱۲۶ خطبہ عید الاضحیہ ۲۲ مارچ ۱۹۶۷ء وقف کا مطالبہ کیا تھا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذمہ جو کام کیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ اس لمبے عرصہ میں ایک تو بیت اللہ کی آبادی کا انتظام کریں۔اس کی صفائی کا خیال رکھیں۔خانہ کعبہ کے طواف کے لئے جو لوگ آئیں ان کی خدمت کریں اور جیسا کہ طهرا الخ کے حکم سے ظاہر ہے۔سب سے اہم فریضہ اس خاندانی وقف کا یہ تھا کہ وہ یہ ساری تیاری کریں اس نبی اور اس نبی کی امت کے لئے جو نماز کو اس شکل میں دنیا کے سامنے پیش کرے گی کہ اس میں قیام بھی ہوگا اس میں رکوع بھی ہوگا اور اس میں سجدہ بھی ہوگا۔تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ بتا دیا تھا کہ تمہارے ذریعہ سے خانہ کعبہ کی بنیاد میں جو اٹھوائی جا رہی ہیں اور بنوائی جا رہی ہیں ان کا مقصد یہ نہیں کہ وہ تمام اغراض تمہارے اور تمہارے خاندان کے ذریعہ سے حاصل کئے جائیں گے۔جن اغراض کے لئے خانہ کعبہ اللہ تعالیٰ دنیا میں قائم کر رہا ہے۔بلکہ تمہارے ذمہ یہ بات ہے کہ تم اس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لئے ابھی سے تیاری کرو اور جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں مبعوث ہوں تو تمہاری کوششوں کے ذریعہ تمہارے نمونہ کی وجہ سے تمہارے خاندان میں وقف کا جوسلسلہ جاری ہو اس کے نتیجہ میں قوم کے اندر وہ تمام استعدادیں پیدا ہو جائیں جن کی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے مشن کی کامیابی کے لئے ضرورت ہے تو اڑھائی ہزار سال تک اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کو اس لئے تیار کیا تھا کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پروں کے نیچے آکر آپ کی تربیت میں، آپ کی قوت قدسیہ سے فیض حاصل کرنے کے بعد وہ قوم بنے جو اللہ تعالیٰ انہیں بنانا چاہتا تھا لیکن ان میں قبول تربیت کی قوت اور استعداد پیدا کرنے کے لئے اس قوم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے خاندان کو وقف کرایا۔یہ بھی یادرکھیں کہ کامل اور حقیقی نشوونما کے بغیر خالی استعداد کوئی کام نہیں کرتی۔بہت سے بڑے اچھے سائنس دان ہوتے ہیں اپنی استعداد کے لحاظ سےلیکن اپنے ماحول کے نتیجہ میں وہ بالکل ان پڑھ اور جاہل رہ جاتے ہیں۔تربیت ان کی نہیں ہوسکتی۔تعلیم کا انتظام نہیں ہو سکتا۔تو کسی مقصد کے حصول کے لئے اگر ایک آدمی یا ایک قوم کی ضرورت ہو تو دو چیزوں کا اس فرد واحد یا اس قوم میں پایا جانا ضروری ہے۔ایک استعداد کا اور ایک اس استعداد کی صحیح تربیت اور اس سے کام لینے کا۔پس استعداد پیدا کرنے کا کام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سپرد