خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 125
خطبات ناصر جلد دہم ۱۲۵ خطبہ عیدالاضحیہ ۲۲ مارچ ۱۹۶۷ء حضرت ابراہیم اور ان کی نسل نے خاندانی وقف کی عظیم قربانی پیش کی خطبہ عید الاضحیه فرموده ۲۲ مارچ ۱۹۶۷ء بمقام مسجد مبارک ربوه / تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔جمعہ کے دو خطبوں میں (مطبوعہ روز نامہ الفضل ۳۱ / مارچ و روزنامه الفضل ۱٫۹ پریل ۱۹۶۷ء) میں نے بطور تمہید کے اپنی بہنوں کو مخاطب کیا تھا۔آج میں اپنے اصل مضمون کی طرف آتا ہوں۔آج کا دن جو قربانیوں کی عید کا دن ہے۔اسے میں نے اس مضمون کے شروع کرنے کے لئے اس لئے منتخب کیا ہے کہ میرے مضمون کی ابتدا وقف ابراہیمی سے ہی ہوتی ہے۔ایک تو مضمون کافی لمبا ہے اور کئی خطبوں میں غالباً ختم ہوگا۔دوسرے آج کے موسم کا یہ نقا ضا ہے کہ اس مضمون کا بالکل ابتدائی حصہ اختصار کے ساتھ آج یہاں بیان کیا جائے۔قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خانہ کعبہ کی بنیاد کم و بیش اٹھارہ ہیں مقاصد اور اغراض کے پیش نظر رکھی گئی تھی اور قرآن کریم کے مطالعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان مقاصد کا حصول حقیقتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تعلق رکھتا تھا لیکن بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے قریباً اڑھائی ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی تیاری کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے