خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 123 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 123

خطبات ناصر جلد دہم ۱۲۳ خطبہ عیدالاضحیہ ۱/۲ پریل ۱۹۶۶ء سے اللہ تعالیٰ اپنے دین اور اپنی تو حید کو دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے اور یہ کام ہو نہیں سکتا جب تک کہ وہ وقف کی روح ہمارے اند ر زندہ نہ رہے۔پس میں اپنے بھائیوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ عید بے شک ہمارے لئے خوشی کی عید ہے لیکن ہمیں حقیقی عید صرف اس وقت حاصل ہو سکتی ہے جب ہم اس عید کا عرفان حاصل کر لیں۔جب ہم اس عید کی حقیقت کو پالیں اور پھر اس کے مطابق اپنی عملی زندگیوں کو ڈھالیں۔ہم میں سے بزرگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نمونہ کو پکڑیں۔ہماری مستورات حضرت ہاجرہ علیہا السلام کا نمونہ اپنے سامنے رکھیں اور ہمارے بچے اور نو جوان خدا تعالیٰ کے برگزیدہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کی طرف نظر رکھیں۔جس نے چودہ سال کی عمر میں بشاشت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اور اس کی رضا کی خاطر ایسے بیابان میں زندگی گزار نے کو قبول کر لیا تھا۔جہاں بظا ہر حالات زندہ رہنا ممکن نہیں تھا۔جب تک یہ روح ہمارے بڑوں میں ، ہماری عورتوں میں اور ہمارے نوجوانوں میں پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک غلبہ اسلام کے دن نزدیک تر نہیں آسکتے۔اللہ تعالیٰ ہمیں وقف کی اس روح کو سمجھنے اور بشاشت کے ساتھ اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے کہ سب طاقت اور توفیق اسی سے حاصل کی جاسکتی ہے۔(روز نامه الفضل ربوه ۴ رمئی ۱۹۶۶ ء صفحه ۲، ۳)