خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 122 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 122

خطبات ناصر جلد دہم ۱۲۲ خطبہ عیدالاضحیہ ۱/۲ پریل ۱۹۶۶ء بنا دیا۔خدا تعالیٰ نے انہیں ساری دنیا سے خیر خواہی کرنے والے دل عطا کئے۔ساری دنیا کے لئے تکلیفیں برداشت کرنے کی ہمت اور طاقت انہیں بخشی کیونکہ انہوں نے اپنا سب کچھ اپنے پیارے رب کے حضور پیش کر دیا تھا۔ان کے اس وقف حقیقی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کو وہ شوکت بخشی اسے وہ مرتبہ اور منزلت عطا کی کہ جس کی مثال جیسا کہ میں نے بتایا ہے دنیا میں ہمیں اور کہیں نظر نہیں آتی۔لیکن جب مسلمان عید الاضحیہ کے اس سبق کو بھول گئے اور وقف کی روح ان میں قائم نہ رہی تب ایک ہزار سال کا عرصہ اسلام پر ایسا آیا کہ جس میں وہ ترقی کرنے۔بلندیوں کی طرف پرواز کرنے اور رفعتوں کو حاصل کرنے کی بجائے تنزل کے گڑھوں میں گرتے چلے گئے۔اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی رفعت، اسلام کی ترقی اور غلبہ کا پھر دوبارہ سامان پیدا کیا ہے۔یعنی جماعت احمدیہ کے قیام اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے ذریعہ اسلام کے لئے ترقی کے سامان پیدا ہو گئے ہیں۔اس لئے ہر احمدی کو وقف کا وہی نمونہ دکھانا چاہیے جو آج ย سے چودہ سو سال پہلے صحابہ کرام نے دکھایا تھا۔اس وقت بھی اسلام کے مخالفوں اور دشمنوں کی چھری ہماری گردنوں کی تلاش میں ہے۔اس لئے میں پوچھتا ہوں کہ کہاں ہیں وہ واقف گرد نیں جو برضاء ورغبت اپنے آپ کو اس چھری کے نیچے رکھ دیں؟ اور خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو حاصل کریں؟ آج وقف کی روح پھر پوری شدت کے ساتھ ہماری جماعت کے اندر زندہ ہونی چاہیے۔کیونکہ دنیا پیاسی ہے اور اس کی پیاس سوائے احمدیت کے اور کوئی نہیں بجھا سکتا۔جب تک ہمارے پاس کافی تعداد میں واقفین موجود نہ ہوں۔اس وقت تک ہم یہ کام نہیں کر سکتے۔اس لئے میں پھر پوچھتا ہوں کہ کہاں ہیں حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی بہنیں جو اپنے بچوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کریں اور کہاں ہیں حضرت اسمعیل علیہ السلام کے وہ بھائی جو دنیا کو چھوڑ کر اور دنیا کی لذت آرام اور عیش سے منہ موڑ کر خدا تعالیٰ کی طرف آئیں اور اس کی خاطر بیابانوں میں اپنی زندگیاں گزارنے کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں؟؟ حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کا نمونہ تو قائم ہی اس لئے کیا گیا تھا۔تا امت مسلمہ اس سے سبق حاصل کرے اور سبق حاصل کرنے کے بعد وہ اللہ تعالیٰ کے اس منشا، ارادہ اور فیصلہ کو پورا کرنے والی ہو۔جس منشاء ارادہ اور فیصلہ کی وجہ