خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 98
خطبات ناصر جلد دہم ۹۸ خطبہ عید الفطر ۴ رستمبر ۱۹۷۸ء جھٹکے کے ساتھ بانس کو زمین سے باہر نکالا تھا وہ دیمک خوردہ تھا۔جھٹکے سے وہ اپنے نصف سے ٹوٹا اور اسی بانس کا اوپر کا حصہ اس کے سر پر پڑا اور اس طرح وہ وہاں سے بھاگ گیا۔خدا تعالیٰ نے ہمیں بتایا کہ تمہاری قربانی قبول کرتا ہوں اور اس طرح بھی خدا اپنی قبولیت کا اظہار کرتا ہے خدا کہتا ہے جہاں تم نہیں پہنچتے وہاں میرے فرشتے پہنچ جاتے ہیں۔بہت سی چیزیں دیکھیں۔ان باتوں کے متعلق کئی گھنٹے تقریر کر سکتا ہوں جو میرے حافظہ نے یادرکھی ہوئی ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کے نشان ہیں۔میں آپ کو بتا یہ رہا ہوں کہ ایک اجتماعی عید ہوتی ہے لیکن آج کی عید انفرادی عید ہے۔ہر فرد نے خدا تعالیٰ کی عبادت کی ، اس کی تسبیح کی اور اس کی تحمید کی ، اس کے حضور جھکا ، اس سے دعائیں مانگیں ، اس سے خیر و برکت کو چاہا اپنے لئے ، اپنے خاندان کے لئے ، جماعت کے لئے، دنیا کے لئے بھی۔بہر حال یہ عبادتیں انفرادی ہیں۔اکٹھا جو کیا ہے تو وہ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا اور نماز تراویح کو اکٹھا کر دیا۔باقی تو فرد فرد کی عبادت ہے لیکن اجتماعی عیدیں بھی آتی ہیں اور اسی طرح بار بار آتی ہیں اور ان کا بعد میں یہ نقشہ بنتا رہا ہے چودہ سوسال میں کہ خدا تعالیٰ ایک فتح عطا کرتا ہے۔پھر کچھ عرصہ کے بعد ظلمات کی یلغار ہوتی ہے یعنی مخالف حملہ کرتے ہیں بڑا سخت حملہ، بڑا منصوبہ، بڑے پیسے، پیچھے بڑی طاقت ، اقتدار ، حکومتیں ان کے قبضے میں ہوتی ہیں اور خدا تعالیٰ کی پیاری جماعت یہ سمجھتی ہے کہ ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں۔وہ یہ سمجھتی ہے کہ ہمارے پاس چونکہ خدا ہے اس لئے سب کچھ ہمارے پاس ہے، تو ہم ان کی کیا پرواہ کرتے ہیں۔فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوني (المائدة : ۴) کی آواز ان کے کان میں پڑتی ہے اور وہ کسی سے نہیں ڈرتے۔آرام سے بیٹھے رہتے ہیں۔۱۹۷۴ء کے واقعات کا آپ کو زیادہ تفصیل سے علم نہیں ہے۔ہم نے ۲۴، ۲۴ گھنٹے لگا تار ایک دن کے بعد دوسرے دن خدا تعالیٰ کے نشان دیکھنے میں اپنا وقت گزارا ہے۔خدا تعالیٰ کی بڑی شان نظر آتی تھی۔خدا تعالیٰ احمدیوں کی جانوں کی حفاظت کرتا تھا۔وہ ان کے مال کی قربانی لے لیتا تھا۔بعض کی جانوں کی قربانی بھی لی لیکن اگر یہی دنیا ہو اور مرنے کے بعد کوئی اور