خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 737
خطبات ناصر جلد دہم ۷۳۷ خطبہ نکاح ۲۶ رمئی ۱۹۷۶ء بہترین تحفہ جو نکاح کے موقع پر دیا جاسکتا ہے، دعا ہے خطبه نکاح فرموده ۲۶ رمئی ۱۹۷۶ ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز مغرب از راه شفقت مندرجہ ذیل دو نکاحوں کا اعلان فرمایا :۔۱- محترمہ زکیہ کلیم صاحبہ بنت مکرم مولانا عطاء اللہ کلیم صاحب (سیکرٹری مجلس نصرت جہاں) ربوہ کا نکاح مبلغ چھتیں سوروپے حق مہر پر محترم صفی اللہ صاحب ابن مکرم غلام قادر صاحب ساکن ربوہ سے۔۲۔محترمہ طاہرہ تنویر عارف صاحبہ بنت مکرم چوہدری محمد یار صاحب عارف سرگودھا کا نکاح بعوض دس ہزار روپے مہر پر محترم ظہیر احمد صاحب باجوہ ابن مکرم چوہدری عبد اللہ صاحب باجوہ لاہور سے۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔نکاح کے بندھن میں بندھنے والے دولہا اور دولہن۔ان کے خاندان جماعت احمد یہ اور نوع انسانی کو جو بہترین تحفہ اور بہترین پیار دیا جاسکتا ہے، وہ دعا کا تحفہ ہے اور دعاؤں ہی کے ذریعہ پیار کا اظہار ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ سے ہماری یہ دعا ہے کہ وہ اپنے فضل سے ان رشتوں کو بہت با برکت کرے اور خوشی اور خوشحالی کے سامان پیدا کرنے کا موجب بنائے۔ایجاب وقبول کے بعد حضور انور نے ان رشتوں کے بہت ہی بابرکت ہونے کے لئے حاضرین سمیت دعا کرائی۔(روز نامه الفضل ربوہ ۲۰ / جولائی ۱۹۷۶ ، صفحہ ۶)