خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 50 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 50

خطبات ناصر جلد دہم خطبہ عیدالفطر ۲۰ رنومبر ۱۹۷۱ء میں نے ابتدا میں اسی معنے میں کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ سب کے لئے بھی اور میرے لئے بھی اس عید کو مبارک کرے۔یہ وہ عید ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور اس کے پیار کا شکر ادا کیا جا تا ہے یہ ہماری عید ہے اللہ تعالیٰ اس عید کو چار چاند لگانے کے لئے اپنی رحمتوں کو اور بھی زیادہ نازل کرے ہماری عید یہ ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے فضل پر اس کے شکر گزار بندے بنیں اور اس طرح شکر گزار بندے بنے پر اللہ تعالیٰ کا رد عمل یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اے میرے بندے! تو نے میری نعمتوں پر شکر کیا میں پہلے سے زیادہ تجھے نعمتیں دوں گا اور بندہ کہتا ہے کہ اے میرے رب ! میں نے عاجزی کے ساتھ اور اپنی تمام کمزوریوں کے ہوتے ہوئے تھوڑا یا بہت تیری نعمتوں کا شکر کیا لیکن میں کما حقہ تیرا شکر ادا نہیں کر سکتا اے اللہ ! تو کتنا پیارا ہے کہ اس کے باوجود تو نے مجھے پہلے سے زیادہ نعمتیں دیں۔میں پہلے سے زیادہ بڑی عید تیرے حضور مناؤں گا اور پہلے سے زیادہ تیرا شکر گزار بندہ بنوں گا۔پس تم یہ دعائیں کرتے رہا کرو کہ یہ عید جس کا سورج طلوع ہو چکا ہے اس عید کا سورج غروب نہ ہو جب تک کہ تمام دنیا میں اسلام غالب نہ آجائے اور جب تک کہ ہر انسانی دل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار کی دھڑکنوں میں دھڑکنے نہ لگ جائے اور ہر انسانی حیات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات سے حصہ لے کر زندگی نہ گزار رہی ہو۔اگر آپ حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے بن جائیں تو پھر یہ عید ہمیشہ آپ کو ملتی رہے گی۔اللہ تعالیٰ کے فضل ہمیشہ بارش کی طرح آپ پر نازل ہوتے رہیں گے اس کے فرشتے ہمیشہ آپ کے لئے درود بھیجتے رہیں گے راستے کے کانٹے آپ کو محسوس بھی نہیں ہوں گے شاہراہ اسلام پر آپ بشاشت کے ساتھ آگے ہی آگے بڑھتے چلے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی توفیق ہی سے ایسا ہوسکتا ہے۔خدا تعالیٰ کرے کہ ایسا ہی ہو۔روزنامه الفضل ربوه ۱۴ جنوری ۱۹۷۲ ء صفحه ۳، ۴)