خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 48
خطبات ناصر جلد دہم ۴۸ خطبہ عیدالفطر ۲۰ نومبر ۱۹۷۱ء کہ دعاؤں کی قبولیت کے نتیجہ میں جو خوشیاں انسان کو میسر آتی ہیں وہ اپنے ساتھ بڑی ذمہ داریاں لے کر آتی ہیں۔وہ انسان جو اپنے رب کی معرفت نہیں رکھتا اور جو چو پاؤں کی سی زندگی گزار رہا ہوتا ہے اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور رحمانیت کس طرح اور کس رنگ میں ہر آن اس کو سہارا دیئے ہوئے ہے وہ اگر اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں اور فضلوں کا جو اس پر نازل ہوتے رہتے ہیں نا شکر گزار بن جائے تو اسے ایک سزا ملتی ہے کہ اسے خدا تعالیٰ نے انسان بنایا تھا۔وہ انسان کیوں نہیں بنا لیکن جس گروہ یا جس فرد کے لئے ایسے سامان پیدا کئے گئے ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی تھوڑی یا بہت معرفت اسے حاصل ہو اور عرفان الہی کے حصول کے لئے سامان اس کے لئے میسر کئے گئے ہوں اور اللہ تعالیٰ اس پر رجوع برحمت ہو اور اسے اپنے پیار سے نوازے اور اس کی دعاؤں کو قبول کرے اور وہ خدا کی زندہ صفات کی تجلیات کا مشاہدہ کر رہا ہو تو اس شخص یا اس جماعت پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنی امت کی منشا اور خواہش کے مطابق اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی تھی کہ اے اللہ ! آسمان سے ہمارے لئے ایک مائدہ اتار جو پہلوں کے لئے بھی اور بعد میں آنے والوں کے لئے بھی عید ہو۔خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ میں ایسا مائدہ تو تمہیں دوں گا مگر یا درکھو۔فَمَنْ يَكْفُرُ بَعْدُ مِنْكُمْ فَإِنّى أَعَذِبُهُ عَذَابًا لَا أَعَذِبُهُ أَحَدًا مِّنَ الْعَلَمِينَ (المائدة : ١١٦) پھر میں اس کو ایسا عذاب دوں گا کہ دنیا میں اتنا شدید عذاب میں نے کسی کو نہیں دیا ہوگا۔خدا تعالیٰ کی زندہ تجلیات دیکھنے کے بعد اسے بھول جانا یا خدا تعالیٰ کی شناخت کے بعد اسے فراموش کر دینا موجب عذاب الہی ہوتا ہے۔جس زمانے میں جس قوم پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بارش کی طرح نازل ہو رہی ہوں ، اس زمانے میں اس جماعت یا اس جماعت کے کسی فرد کا اپنے پیدا کرنے والے اور بار بار رحم کرنے والے اور پیار کرنے والے رب سے قطع تعلق کر لینا، یہ ایک ایسی بات ہے جس کے نتیجہ میں عام عذاب نہیں آیا کرتا۔اس کے نتیجہ میں تو جیسا کہ قرآن کریم کی ان آیات میں بھی جن کی میں نے تلاوت کی ہے اور بہت سے دوسرے مقامات پر بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان حالات میں پھر ایسا عذاب نازل ہوتا ہے کہ دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی العیاذ باللہ۔