خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 643 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 643

خطبات ناصر جلد دہم ۶۴۳ خطبہ نکاح ۹/ جولائی ۱۹۷۳ء ہوں غلط ہے۔جماعت کے افراد امیر ہوں یا غریب وہ تو ایسا نہیں سمجھتے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو اپنی استعداد کے مطابق خدا اور اس کے رسول سے پیار کی توفیق عطا کی اور پیار کے جلووں کے حاصل کرنے کے سامان بھی دیئے ہیں اور مواقع بھی مہیا کئے ہیں اور اپنے فضل سے عملاً وہ پیار کے جلووں کو ظاہر بھی کرتا ہے۔میرے پاس ہزاروں خطوط ایسے آتے ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ جماعت کے ہزاروں افراد نے خدا تعالیٰ کے پیار کو دیکھا۔بعض لوگ بڑی بیوقوفی کرتے ہیں وہ ایسی جگہوں پر جاتے ہیں۔جہاں سے تعویذ گنڈا حاصل کرتے ہیں۔یہ چیزیں کیا حیثیت رکھتی ہیں۔میرے پاس جب یہ خط آتا ہے کہ دعا کریں کہ میری بھینس بیمار ہے اچھی ہو جائے۔تو مجھے بڑا لطف آتا ہے۔اس لئے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بوٹ کا تسمہ ٹوٹ جائے اور لینا ہو تو خدا تعالیٰ سے مانگو۔اب بھینس کی بیماری کوئی چیز نہیں۔کوئی ناسمجھ شاید ہنسے کہ اس کو کوئی اور بات لکھنے کو نہیں ملی کہ اس نے یہ کہ دیا کہ میری بھینس بیمار ہے اس کے لئے دعا کریں مگر مجھے بڑا لطف آتا ہے۔کیونکہ جو روح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت میں پیدا کرنا چاہتے تھے کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز کے متعلق یہ خیال نہ کرو کہ ہم اپنے زور بازو اور طاقت سے اس کو حاصل کر سکتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے مانگو۔اور بھینس کی صحت بھی خدا سے مانگو خود بھی دعا کرتے ہیں اور پیار سے مجھے بھی دعا کے لئے لکھ دیتے ہیں کہ دعا کریں میری بھینس اچھی ہو جائے۔تعویذ نہیں مانگتے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہ انسان بیماری سے شفا حاصل کر سکتا ہے اور نہ بھینس بیماری سے شفا حاصل کر سکتی ہے۔یہ سب اس کا پیار ہے اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل انہوں نے خدا تعالیٰ کی محبت کے جلوے دیکھے ہیں۔نکاح کا جب اعلان کیا جاتا ہے تو ہمارے ایک نو جوان بچے اور نوجوان بچی کے لئے ایک قسم کی نئی زندگی کا دروازہ کھلتا ہے۔انسانی زندگی میں یہ ایک بڑا اہم موڑ ہے۔اگر مادی دنیا میں سے اس کی مثال دینی پڑے تو میں یہ کہوں گا کہ اتنا اہم موڑ ہے جتنا ریشم کی سنڈی کا۔ریشم بنانے والا کیڑا ایک سنڈی کی مانند ہے۔جو رینگتی (Crawl) کرتی ہے اور اس کی نہ آنکھیں نظر آتی ہیں اور نہ کوئی اور آثار اس کے چہرے پر دکھائی دیتے ہیں۔پھر وہ سکون (Cocoon)