خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 597
خطبات ناصر جلد دہم ۵۹۷ خطبہ نکاح ۱۰ رجون ۱۹۷۲ء ہر شخص کی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ خدا کی نگاہ میں حسین ترین وجود بن جائے خطبہ نکاح فرموده ۱۰ جون ۱۹۷۲ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عصر از راہ شفقت مندرجہ ذیل چھ نکاحوں کا اعلان فرمایا۔۱- محترمه منصوره مسعودہ صاحبہ بنت مکرم ڈاکٹر حافظ مسعود احمد صاحب سرگودھا کا نکاح محترم ڈاکٹر نصیر احمد صاحب مبشر ابن مکرم مولانا نذیر احمد صاحب مبشر کے ساتھ بعوض ۲۱ / ہزار روپے حق مہر۔-۲- محتر مہ امتة السبوح صاحبہ بنت مکرم میجر عبدالرحمن صاحب مغل راولپنڈی کا نکاح محترم ملک کریم احمد صاحب ظفر ابن مکرم مولا نا ظہور حسین صاحب ربوہ کے ساتھ بعوض دس ہزار روپے حق مہر۔-۳- محتر مه نگہت نسیم صاحبہ بنت مکرم شیخ نصیر الحق صاحب مرحوم لاہور کا نکاح محترم فلائٹ لیفٹینٹ رشید احمد صاحب ملک ابن مکرم ملک سعید احمد صاحب کراچی کے ساتھ بعوض دس ہزار روپے حق مہر۔۴۔محترمہ نیم اختر صاحبہ بنت مکرم چوہدری شریف احمد صاحب خانیوال کا نکاح محترم کیپٹن منور احمد مرزا صاحب ابن مکرم مرز اصفدر جنگ ہمایوں کے ساتھ دس ہزار روپے حق مہر پر۔۵ محترمه فرحت جبیں زبیری صاحبہ بنت مکرم احتجاج علی صاحب زبیری کیمبلپور کا نکاح محترم نذیر احمد صاحب ایاز ابن مکرم مختار احمد صاحب ایاز لندن سے پندرہ ہزار روپیہ حق مہر پر۔۶۔محترمہ مسرت جہاں صاحبہ بنت مکرم ماسٹر عبد الحق صاحب ناصر ساہیوال کا نکاح محترم چوہدری