خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 34 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 34

خطبات ناصر جلد دہم ۳۴ خطبہ عیدالفطر ۱۲؍ دسمبر ۱۹۶۹ء اور ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جو انہوں نے اپنے زور سے اور اپنی طاقت سے حاصل کی ہو جس ہنر اور قابلیت کے نتیجہ میں وہ احسان کا ارادہ کریں اور جس چیز کو لے کر وہ دوسرے پر احسان کریں اور اسی کو عطا کریں۔غرض نہ وہ چیز جو ان کے پاس ہے ان کی اپنی یا ان کے اپنے زور سے حاصل کردہ ہے اور نہ ان کی احسان کی قوت اور ارادہ اور خواہش اپنی ہے۔یہ سب کچھ رَبُّنَا الله ) اللہ کی توفیق سے ہی میسر آتا ہے جو ہمارا رب ہے۔کئی لوگ دوسروں کو عطا کرتے ہیں اور صفات باری سے عملی طور پر متصف ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے قرب کو پاتے اور اس کو پہچانتے اور اس کا عرفان حاصل کرتے ہیں اور ان کے لئے عید کے دن اور عید کے اوقات مقرر کئے جاتے ہیں۔دوسرا بڑا ذریعہ یا سامان جس کے نتیجہ میں انسان کے لئے حقیقی عید یا خوشی پیدا ہوتی ہے وہ استقامت ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرما یا اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا - استقامت کے معنی یہ ہیں کہ وقتی طور پر اور عارضی طور پر اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی دینے کا سوال نہیں بلکہ جب اپنے رب کو اور اپنے اللہ کو پہچان لیا تو اس کی کامل اطاعت اور مسلسل اطاعت اور ہمیشہ کی اطاعت اور ہمیشہ کا پختہ تعلق اس سے ضروری ہے کیونکہ جو آج کھاتا ہے اور کل بھوکا رہتا ہے اس کو سیر نہیں کہا جا سکتا۔رمضان میں ہم نے یہ سبق بھی سیکھا ہے ہم دن کو بھوکا رہتے تھے اور رات کو ہم کھاتے تھے اور جتنا چاہتے تھے کھاتے تھے اور دن کو ہم بھوکے رہتے تھے تو ہم بڑی بھوک محسوس کرتے تھے۔پس رات کا کھانا دن کی سیری کا سبب نہیں بنا کرتا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ سے ایک وقت میں تعلق کو قائم کر کے اس کے پیار کو وقتی طور پر حاصل کر لینا۔اس دنیا میں آئندہ زمانہ کی سیری کے سامان نہیں پیدا کیا کرتا۔اس دنیا کے حالات تو تفصیلاً ہم جانتے نہیں اس لئے ہم اس دنیا کی بات کریں گے۔جس طرح اس دنیا میں کھانے کی بار بار ضرورت پڑتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے پیار کی نگاہوں کی ہمیں بار بار ضرورت پڑتی ہے اور وہ پیار کی نگاہیں قربانی اور ایثار کے بغیر ہم حاصل نہیں کر سکتے غرض استقامت کے معنی ہیں کہ جب تعلق قائم کر لیا تو پھر وہ ٹوٹے گا نہیں اور وہ اتنا پختہ ہے کہ دنیا جتنا چاہے زور لگا لے وہ ٹوٹ نہیں سکتا۔لیکن اللہ تعالیٰ دنیا کو یہ بتانے کے لئے