خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 504 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 504

خطبات ناصر جلد دہم ۵۰۴ خطبہ نکاح ۲۹ دسمبر ۱۹۶۹ء سے پہلے فرمایا :۔احباب ذرا زیادہ ہوشیار ہو کر سنیں۔میں اپنے دستور کے خلاف آج ایک فقرہ چھوڑ دوں گا۔اس وجہ سے کہ میں تو آپ کی خاطر شام تک بھی بھوکا رہ سکتا ہوں۔ابھی تک میں نے کھانا نہیں کھایا۔مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوتی بھوکا رہ جاؤں تو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن آج اگر میں کھانے پر نہ پہنچا تو اور دس پندرہ آدمیوں کو بھوکا رہنا پڑے گا جن میں سے بعض بیمار ہیں۔ایجاب و قبول کے دوران میں حضور انور نے بعض نہایت ہی اہم ارشادات بیان فرمائے۔۱- محترمہ آصفه مسعوده صاحبہ بنت چوہدری عبد الرحیم خاں صاحب کا نکاح دو ہزار روپے حق مہر پر محترم عبدالرشید خاں صاحب سے مقرر تھا۔اس نکاح کے اعلان پر دولہا میاں کو مخاطب کرتے ہوئے حضور انور نے فرمایا:۔یہ مہر کیوں اتنا تھوڑا رکھا ہے۔زیادہ بھی چیک (Check) کرنا پڑتا ہے تو تھوڑ ابھی چیک (Check) کرنا پڑتا ہے۔مہر جو ہے یہ مناسب ہونا چاہیے۔نہ بہت زیادہ دکھاوے کا مہر اور نہ بہت کم بے خیالی کا مہر یا غفلت کا مہر۔نہ غفلت ہونی چاہیے نہ نمائش ہونی چاہیے۔اس واسطے میں نے بطور نگران ولی کے کیونکہ خلیفہ وقت ولی ہوتا ہے ساری جماعت کا اس نکاح کے لئے مہر دو ہزار کی بجائے پانچ ہزار روپے کر دیا ہے۔۲۔فرمایا:۔یہ بڑا مبارک دن ہے۔بع غموں کا ایک دن اور چار شادی اب شادیاں بڑھ رہی ہیں۔ایک جنازہ پڑھایا ہے تو پچھتر شادیاں ہو رہی ہیں۔محترم حاجی عبد الرحمن صاحب رئیس باندھی کی صاحبزادی امتہ اللہ عطیہ صاحبہ کا نکاح محترم الہی بخش صاحب سے پچاس ہزار روپے حق مہر پر مقرر تھا۔حضور انور نے اس سلسلہ میں فرمایا :۔محترم عبد الرحمن صاحب باندھی کی بچی کا نکاح ہے جس پر پچاس ہزار روپے مہر لکھا ہوا ہے۔حضور انور نے حاجی صاحب سے استفسار فرمایا کہ یہ نمائشی مہر ہے یا الہی بخش صاحب ایک ماہ کے