خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 481
خطبات ناصر جلد دہم ۴۸۱ خطبہ نکاح ۲۸ ستمبر ۱۹۶۹ء پریشانی کا باعث بنتا ہے۔وقت خرچ کرنا پڑتا ہے۔توجہ دینی پڑتی ہے اور کوشش کرنی پڑتی ہے کہ آپس کی یہ کدورتیں دور ہو جائیں اور رنجشیں مٹ جائیں اور غلطی کو غلطی سمجھ کر اس سے تو بہ کی جائے۔کثرت سے استغفار کی جائے۔بہر حال ان حالات میں ہر دو خاندانوں کے لئے بھی۔جماعتی تنظیم کے لئے بھی اور خود خلیفہ وقت کے لئے بھی پریشانی پیدا ہوتی ہے۔حالانکہ ہمیں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اس سلسلہ میں محض اسلامی اخوت کو دیکھنا کافی نہیں ہے بلکہ کفو کو دیکھنا بھی ضروری ہے ویسے عام طور پر کفو کو دیکھا جاتا ہے لیکن بہت سی پر ایسی مثالیں میرے علم میں ہیں کہ بعض دفعہ کفو کا خیال نہیں رکھا گیا۔بعض دفعہ اس قسم کے رشتے طے ہو جانے سے قبل مجھے علم ہو جاتا ہے۔اگر تنظیم کو مختلف جگہوں پر علم ہو جائے تو وہ خود ہی دخل دے کر ایسے ایسے رشتے قائم نہیں ہونے دیتے لیکن بعض دفعہ یہ علم نہیں ہونے پاتا اور نکاح کا اعلان ہو جاتا ہے۔بعد میں پریشانی اٹھانی پڑتی ہے۔صرف ان دو خاندانوں ہی کو نہیں بلکہ جماعت کو بھی اور خلیفہ وقت کو بھی پریشانی ہوتی ہے۔صلح کرانے میں وقت ضائع ہوتا ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جتنے ارشادات فرمائے ہیں اور جو اسوہ حسنہ قائم فرمایا ہے۔آپ کے ارشادات کی تعمیل اور آپ کے اسوۂ حسنہ کی پیروی کرنا ہمارے لئے بڑا ہی ضروری ہے۔اگر ہم بعض باتوں کو چھوٹی یا معمولی سمجھ کر ان پر عمل کرنا چھوڑ دیں تو اس کا نتیجہ ہمیں ہی بھگتنا پڑے گا۔حالانکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب ارشادات تو ہماری بھلائی اور خیر خواہی کے لئے ہیں۔آپ نے نیکی کو قائم کرنے کے لئے طریق عمل اختیار فرمایا اور ہمارے لئے اسے ایک اسوۂ حسنہ بنادیا لیکن ہم نے اس کے باوجو در شتے کے انتخاب میں غلطی کی اور ا اپنی اس غلطی کے نتیجہ میں اپنے خاندان اور اپنی جماعت کی پریشانی کا باعث بنے۔اس سے جماعت کو بچنا چاہیے۔پس حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اس قدر بلند ہے کہ نہ اس تک کسی انسان کی رسائی ہوئی اور نہ کبھی ہوگی۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اسوہ حسنہ قائم کیا ہے۔یعنی جس عمل پر آپ اپنی زندگی میں قائم رہے ہیں اس اسوۂ حسنہ کی