خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page v of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page v

III بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ وَ عَلى عَبْدِهِ الْمَسِيحَ الْمَوْعُودِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ پیش لفظ سید نا حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ امسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کے فرمودہ خطبات کی دسویں جلد پیش خدمت ہے۔یہ جلد آپ کے خطبات عیدین اور خطبات نکاح پر مشتمل ہے جو آپ نے اپنے زمانہ خلافت (۱۹۶۵ ء تا ۱۹۸۲ء) کے دوران ارشاد فرمائے۔جن مقدس وجودوں کو خدائے قادر مقام خلافت پر فائز کرنے کے لئے منتخب فرماتا ہے انہیں اپنی غیر معمولی تائید و نصرت سے نوازتا ہے۔ان کی زبانِ مبارک سے حقائق و معارف اور دقائق و لطائف جاری فرماتا ہے۔اس جلد میں سے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں۔۱۔۲۲؍ دسمبر ۱۹۶۸ء کو عید الفطر کے خطبہ میں حقیقی خوشی اور عید کی وضاحت کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی تعلیم پر ہم غور کرتے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی دنیوی خوشی اور عید وہی ہے جو خدا تعالیٰ کے کہنے پر منائی جائے۔اسی میں خیر ہے۔اسی میں برکت ہے اور جب ہمیں خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ خوش ہو جاؤ اور خوشی سے اچھو تو ہمارا کام ہے کہ ہم خوش ہوں اور ہماری طبیعتوں میں بشاشت پیدا ہو اور ہم خوشی سے اچھلیں۔جب ہمارا خدا ہمیں کہتا ہے کہ کھاؤ اور پیو تو ہمارے لئے یہ فرض ہے کہ ہم اس کے شکر گزار بندے بنتے ہوئے کھا ئیں بھی اور پیئیں بھی اور اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی کھلائیں اور پلائیں اور اس کے پیچھے جو حقیقت ہے وہ تو ظاہر ہی ہے۔