خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 417
خطبات ناصر جلد دہم ۴۱۷ خطبہ نکاح ۱۲ را گست ۱۹۶۸ء اسلام نے تکلف کی زندگی کی تعلیم نہیں دی اور اسی میں سب برکتیں اور خیر ہے خطبه نکاح فرموده ۱۲ اگست ۱۹۶۸ء بمقام کوٹھی الامتیاز کراچی حضورانور نے مغرب و عشاء کی نمازیں اپنی قیام گاہ کوٹھی ”الا متیاز پر جمع کرائیں اور اس کے بعد ایک نکاح کا اعلان فرمایا۔یہ نکاح امتہ النصیر اقبال صاحبہ بنت کرنل جی ایم اقبال صاحب کا محمد عبد الرشید صاحب ولد چوہدری محمد حسین صاحب کے ساتھ مبلغ پندرہ ہزار روپیہ مہر پر ہونا قرار پایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اسلام نے تکلف کی زندگی کی تعلیم نہیں دی اور اس تعلیم میں ہی سب برکتیں اور سب خیر ہے۔اللہ تعالیٰ نے بد رسوم اور بُری عادتوں اور گندے رواج سے منع اس لئے کیا ہے کہ انسان کے گھر اس کی برکتوں سے بھر جائیں لیکن بعض خاندانوں میں مجھے نظر آتا ہے کہ رسوم کی طرف کچھ توجہ ہورہی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ خدا کی چھری سے بے شک ناک کٹ جائے لیکن رواج کے چاقو سے ناک نہ کئے۔اس سے زیادہ کوئی غیر معقول بات نہیں ہوسکتی۔دکھاوے کے لئے بڑے بڑے مہر مقرر کر دیتے ہیں۔لاہور میں میں نے ایک رشتہ کرایا تو لڑ کی کی والدہ کہنے لگیں کہ پچاس ہزار روپیہ مہر ہونا چاہیے میں نے کہا کہ کوئی معقول بات کرو یہ کیا کہہ رہی ہو۔اس نے کہا یہ رشتہ دار ہیں اور