خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 17 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 17

خطبات ناصر جلد دہم 12 خطبہ عیدالفطر ۲ جنوری ۱۹۶۸ء عید کے معنی بار بار آنے والی خوشی کے دن کے ہیں خطبہ عید الفطر فرموده ۲ / جنوری ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔آج کا دن عید کا دن ہے اور یہ عید الفطر ہے۔یعنی یہ صرف خوشی کا دن نہیں بلکہ اس خوشی کا دن ہے۔جس کا تعلق رمضان سے ہے اور خوشی اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پورا مہینہ مختلف قسم کی عبادات کرنے کی توفیق عطا کی اور وعدہ فرمایا کہ ہم میں سے جو خلوص نیت کے ساتھ ان عبادات کو بجالائیں گے اور کسی قسم کا فساد ان کے خیالات ، اعتقادات یا اعمال میں نہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ ان کی عبادت کو قبول کرے گا اور ان کی طرف رجوع برحمت ہوگا۔عید کے معنی بار بار آنے والی خوشی کے دن کے ہیں۔عربی زبان میں یہ لفظ صرف اس عید پر ( جس کو عید الفطر یا ہم اپنی زبان میں چھوٹی عید کہتے ہیں اس پر یا بڑی عید پر ) ہی چسپاں نہیں ہوتا بلکہ ہر خوشی کا موقع جب لوگ خوشی منانے کے لئے جمع ہوں عید کہلاتا ہے۔قرآن کریم میں اس عید کا ذکر بھی فرمایا ہے۔اس آیت میں رَبَّنَا اَنْزِلُ عَلَيْنَا مَابِدَةً مِّنَ السَّمَاءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًا لَّاوَلِنَا وَاخِرِنَا (المائدة : ۱۱۵)۔اور منجد میں ہے کہ اسے عید اس لئے کہا جاتا ہے ( عید الفطر کو اور عید الاضحیہ کو) کہ ہر سال نئی خوشی لے کر آتی ہے۔تو جو دن ہر سال آتا ہے اور بڑی خوشیاں لے کر آتا ہے