خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 370 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 370

خطبات ناصر جلد دہم ہور - خطبہ نکاح ۲۶ اکتوبر ۱۹۶۷ء رہے ہوں انہیں دلانا مسلمان مردوں کی ذمہ داری ہے۔قرآن کریم کی آیت الرِّجَالُ قَوَمُونَ علَى النِّسَاء (النساء :۳۵) کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ مرد عورتوں کے حقوق کے نگران ہیں پس یہ مسلمان مردوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عورتوں کے اسلامی حقوق ان کو دلائیں۔آج دنیا نمونے کی محتاج ہے۔ہر طرف سے مطالبہ ہورہا ہے کہ وہ لوگ سامنے آئیں جو اسلامی شریعت پر عمل کرنے کا نمونہ ہوں۔اعلیٰ تعلیم بھی اچھی چیز ہے مگر تعلیم عمل کے بغیر مؤثر نہیں ہوسکتی۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت تبلیغ اسلام کے لئے عملی نمونہ کی اشد ضرورت ہے اسلام نے جو حقوق عورتوں کو دیئے ہیں وہ کسی اور جگہ انہیں حاصل نہیں۔اگر مسلمان اسلام کے مطابق عورتوں کو حقوق دیں اور عملی نمونہ قائم کریں تو اس کا دنیا پر خاص اثر ہوسکتا ہے اور تبلیغ اسلام میں بہت فائدہ حاصل ہوگا۔احمدی جماعت کا فرض ہے کہ اس بارے میں بھی بہترین نمونہ قائم کریں اور عورتیں اور مرد اسلامی شریعت کے مطابق زندگی بسر کریں تو وہ ایک طرف اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والے ہوں گے۔دوسری طرف ان کے گھر جنت کا گہوارہ بن جائیں گے اور پھر ان کے نمونہ سے غیر مسلموں میں اسلام کی بہترین تبلیغ ہو گی۔حضور انور نے فرمایا کہ یورپ کے سفر میں ایک نو مسلم کی غیر مسلمہ بیوی کے متعلق پتہ لگا کہ وہ بہت متعصب ہے۔بات تک نہیں سنتی۔میری اس تقریر میں وہ آئی ہوئی تھی جس میں میں نے بتایا تھا کہ اسلام نے عورتوں کو جو حقوق دیئے ہیں وہ کسی اور جگہ موجود نہیں کسی اور مذہب اور سوسائٹی نے وہ حقوق نہیں دیئے۔بعد ازاں میں نے اس خاتون سے کہا کہ آپ نے میری تقریر سنی ہے آپ کا خاوند مسلمان ہے آپ کو اس سے وہ حقوق حاصل کرنے کا حق ہے جو اسلام نے بیوی کے لئے مقرر کئے ہیں اگر آپ کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اسلام نے بیوی کو کیا کیا حقوق دیئے ہیں تو آپ کس طرح حاصل کر سکیں گی۔اس لئے آپ کو اسلام کے متعلق باتیں سننی چاہئیں۔معلوم ہوا تھا کہ بعد ازاں وہ کچھ نرم ہو گئی تھیں اور کچھ باتیں سننے لگ گئی تھیں۔حضور انور نے ایجاب و قبول کرنے سے پہلے یہ بھی فرمایا کہ آج جس عزیز کے نکاح کا میں