خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 342
خطبات ناصر جلد دہم ۳۴۲ خطبہ نکاح ۱۵ جنوری ۱۹۶۷ء ساری زندگی ان تینوں بھائیوں کی جو تینوں ہمارے بھی بڑے پیارے اور محترم بھائی ہیں دنیا کی بہبودی کے لئے انہیں خیر پہنچانے کے لئے ، نڈر ہوکر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے کے لئے خرچ ہوئی۔یہ دو نسلیں تو ہمارے سامنے آگئیں۔باپ اور ان کی اولا دساری کی ساری نمایاں اس گروہ میں شامل ہے۔ان کو دیکھ کر ایسے موقع پر جو آج پیدا ہوا ہے دل میں شدید خواہش پیدا ہوتی ہے کہ تیسری نسل بھی اسی رنگ میں رنگی جائے۔بے شک وہ دنیا میں پڑیں، بے شک وہ دنیا کمائیں، بے شک وہ دنیا کو حاصل کریں، بے شک وہ دنیا کے لئے اپنی زندگی کا ایک حصہ بظاہر خرچ کر رہے ہوں لیکن ان کا ہر عمل اس آیت کے نیچے آرہا ہو۔كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ کہ تمہیں خَيْرَ أُمة اس لئے خدا کی نگاہ نے قرار دیا ہے کہ تم وہ لوگ ہو کہ خود کو بھول کر دوسروں کے لئے اپنی زندگی کو گزارتے ہو اور تمہارے خیر کا دائرہ بڑا وسیع ہے۔اتنا وسیع کہ جب تم سب کے خیر کے دائروں کو اکٹھا کر دیا جائے۔تو ساری دنیا پر وہ حاوی ہو جاتا ہے اور تم خَيْرَ أُمَّةٍ بن جاتے ہو۔سارے زمانوں پر وہ حاوی ہو جاتا ہے اور قیامت تک کے لئے تم خَيْرَ أُمَّةٍ رہو گے۔تو جس نکاح کے اعلان کے لئے میں اس وقت کھڑا ہوا ہوں۔وہ مکرم و محترم چوہدری محمد عبد اللہ خان صاحب کے سب سے چھوٹے صاحبزادے چوہدری ادریس نصر اللہ صاحب کا ہے۔جو ایک ہمارے اور بھائی چوہدری عبد الحمید صاحب کی صاحبزادی نعیمہ بیگم کے ساتھ ہونا قرار پایا ہے۔تو دوست اسی خواہش کے مطابق جیسا کہ میں نے کہا ہے۔دعا کریں اب بھی اور بعد میں بھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی اور دوسرے ایسے خاندانوں کی دوسری نسلوں کو بھی اس گروہ کثیر میں ہی شامل رکھے جن کے متعلق قرآن کریم نے یہ کہا ہے۔کُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ - اس کے بعد حضور انور نے ایجاب وقبول کروایا اور رشتہ کے بابرکت ہونے کے لئے دعا بھی فرمائی۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )