خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 333 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 333

خطبات ناصر جلد دہم ۳۳۳ خطبہ نکاح ۲۹ نومبر ۱۹۶۶ء نہ کرو اور نہ کوئی بات منہ سے نکالو وہی خدا ہے جس نے تمہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر میں پیدا کیا ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دوسری نسل کے سامنے ان ذمہ داریوں کو واضح کیا ہے جو الہام إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ يطهركم تطھیرا کے نتیجہ میں ان پر پڑنے والی تھیں اور وہ یہ کہ نہ دین کے معاملہ میں کسی غیر اللہ کی طرف جھکو اور نہ دنیا کے معاملہ میں غیر اللہ کو تکیہ گاہ اور قابل بھروسہ سمجھو۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس دوسری نسل کے متعلق اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے الفاظ میں دعا بھی کی ہے۔حضور فرماتے ہیں۔اور پھر میری طرف سے بطور حکایت الہام ہوا۔اے میرے اہل بیت خدا تمہیں شر سے محفوظ رکھے۔“ یعنی زبان کے شر سے بھی جو خدا تعالیٰ کو ناراض کر دیتا ہے اور عمل کے شر سے بھی جو خدا تعالیٰ سے دور لے جاتا ہے۔غرض چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دوسری نسل ان ذمہ داریوں کو جو آپ کے الہام إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا کے نتیجہ میں عائد ہونے والی تھیں اپنے طور پر نہیں سمجھ سکتی تھی۔اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود ان کی تربیت نہیں کرنی تھی۔بلکہ بعد میں آنے والوں نے ان کی تربیت کرنی تھی۔اس لئے خدا تعالیٰ نے اس الہام کے صحیح مفہوم اور تشریح کو وضاحت سے بیان کر دیا۔اس الہام کا یہ مطلب نہیں کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ کر لیا ہے کہ اس نے تمہیں رجس اور گندگی اور ناپاکی سے پاک کرنا ہے اس لئے اب تمہیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پہلے دوسرے اور تیسرے الہام میں جس رجس سے پاکیزگی اور تطھیر کا وعدہ یا وعدے ان لوگوں سے کئے گئے ہیں وہ ان پر بڑی بھاری ذمہ داریاں عائد کرتے ہیں اور انہیں قربانی کے عظیم امتحانوں میں سے گزرنا پڑے گا۔اگر وہ ان امتحانوں میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ