خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 306 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 306

خطبہ نکاح ۱۰ راگست ۱۹۶۶ء خطبات ناصر جلد دہم کے متعلق اسی آیت میں آگے چل کر ہمیں یہ بتایا کہ عورت کی جسمانی نشوونما اور تربیت اور صحت وغیرہ کی نگرانی کا کام مرد پر ڈالا گیا ہے۔اس لئے ڈالا گیا ہے کہ عام طور پر معاشرہ انسانی میں مرد کمانے والا اور خرچ کرنے والا ہے۔ہمیں بطور خاوند یا بطور باپ یا بعض اوقات بطور بڑے بھائی یا کسی بڑے رشتہ دار کی حیثیت سے یہ ذمہ داریاں نبھانی پڑتی ہیں کہ ان مستورات کو جو بیوی کی حیثیت میں یا جو بیٹی کی حیثیت میں یا جو چھوٹی بہن کی حیثیت میں ہمارے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور ہماری زیر نگرانی ہیں۔ہماری حفاظت میں ہیں ان کی صحت کا ہم خیال رکھیں ان کی جسمانی نشو ونما کا ہم خیال رکھیں کیونکہ ہم خرچ کرنے والے ہیں اور خرچ کی راہ بھی اس میں بتا دی کہ خرچ کرتے وقت فضولیات کی بجائے ضروری چیزوں کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے۔اس طرح اسلام ایک صحت مند معاشرہ کی بنیاد رکھتا ہے۔اس کے خلاف اس وقت بڑا رجحان ہے بڑی رو پائی جاتی ہے۔مغربی تہذیب اخراجات کو ان راستوں سے ہٹا کر جو اسلام نے بتائے ہیں دوسری طرف لے جانا چاہتی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم صرف خرچ کی ان راہوں کو اختیار کرو جو ہم نے تمہیں بتائے ہیں اور وہ ضروریات زندگی ہیں اور وہ وہ خرچ ہیں جن کے نتیجہ میں تمہاری اپنی صحتیں قائم رہیں اور ان عورتوں کی صحتیں قائم رہیں جن کا تمہارے ساتھ کوئی رشتہ اور تعلق ایسا ہے جس کی وجہ سے وہ تمہاری زیر نگرانی ہو جاتی ہیں اور ان کی تربیت جسمانی اس رنگ میں ہو کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھا سکیں۔مثلاً قرآن کریم نے اپنا ایک فیملی پلینگ بھی دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ بجائے اس کے کہ ہم اس فیملی پلینگ کی سکیم پر عمل کرتے جو قرآن کریم نے دنیا کے سامنے رکھی ہے۔ہم اس سلسلہ میں بھی غیر قوموں سے بھیک مانگتے ہیں اور ان کے خیالات کو جاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔قرآن کریم کی فیملی پلیٹنگ میں صحت کے لحاظ سے ( یعنی بچہ کی صحت اور ماں کی صحت ہر دو کے لحاظ سے ) یہ حکم دیا ہے اور یہ تعلیم دی ہے کہ دو بچوں کا فاصلہ کم سے کم تیس (۳۰) مہینوں کا ہونا چاہیے اور اگر زیادہ خیال رکھنا ہو یا زیادہ کی ضرورت ہو مثلاً ماں کی صحت اچھی نہ ہو تو قریباً تین سال یا سوا تین سال کا عرصہ بنتا ہے۔