خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 267 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 267

خطبات ناصر جلد دہم ۲۶۷ خطبہ نکاح ۱۰ / مارچ ۱۹۶۶ء کے گھر بس نہیں سکتی۔کیونکہ اس کا خاوند اس سے حسن سلوک سے نہیں پیش آتا۔وہ اسے اس کے جائز حقوق بھی نہیں دیتا اور وہ اسلام کے احکام کے ماتحت اپنے گھر کا ایسا ماحول نہیں بنا تا کہ جس کے نتیجہ میں اس کی بیوی اس کے گھر میں امن اور سکون سے رہے بلکہ وہ اپنے گھر کا ماحول ایسا بناتا ہے کہ اس کی بیوی اس سے علیحدگی چاہتی ہے۔تو اس کے یہ افعال بُرے ہیں ورنہ طلاق اپنی ذات میں بُری نہیں۔اسلام نے جو احکام میاں بیوی کے باہمی تعلقات اور دوسرے رشتوں کے متعلق دیئے ہیں۔ان پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمارے دل میں اپنے رب کے لئے احسان مندی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔کہ کتنی اچھی تعلیم ہے جو اس نے ہمارے معاشرہ کے متعلق دی ہے۔اور ہر مسلمان (خصوصاً احمدی کا یہ فرض ہے کہ وہ ان تعلقات کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے گھریلو ماحول کو بہترین اور خوشحال بنانے کی کوشش کرتا رہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔اس کے بعد حضور انور نے ایجاب وقبول کرایا اور حاضرین سمیت لمبی دعا کرائی۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )