خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 261 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 261

خطبات ناصر جلد دہم ۲۶۱ خطبہ نکاح ۲۶ فروری ۱۹۶۶ء قرآن کریم نے بیوہ کی شادی کی بڑی تاکید فرمائی ہے خطبہ نکاح فرموده ۲۶ فروری ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز مکرم شیخ مبارک احمد صاحب فاضل سابق رئیس التبليغ مشرقی افریقہ حال نائب ناظر اصلاح وارشاد صدر انجمن احمد یہ ربوہ کے نکاح کا اعلان محتر مہ صفیہ بیگم صاحبہ بنت مکرم قاضی عبد السلام صاحب بھٹی حال نیرو بی مشرقی افریقہ کے ہمراہ بعوض دو ہزار روپیہ مہر فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیوہ عورت کے متعلق حکم دیا ہے کہ اس کا نکاح کرا دینا چاہیے۔اس سے معاشرہ کی بہت سی الجھنیں دور ہو جاتی ہیں اور کئی طرح سے امن اور سکون پیدا ہوجاتا ہے۔اگر بیوہ کی شادی کی طرف توجہ نہ کی جائے جیسا کہ ہندوؤں میں رسم ہے کہ بیوہ کی شادی ہو ہی نہیں سکتی اور ان کی دیکھا دیکھی مسلمانوں کے ایک طبقہ میں بھی یہ خیال پیدا ہو گیا ہے کہ اگر ان میں سے کسی نے اپنی بیوہ لڑکی یا بیوہ بہن یا کسی اور رشتہ دار عورت ( جو بیوہ ہو گئی ہو ) کا دوبارہ نکاح کرا دیا تو لوگ کہیں گے۔یہ شخص اپنی اس رشتہ دار عورت کو روٹی بھی نہیں کھلا سکتا۔اس طرح بہت سے خاندان بیوہ کی دوبارہ شادی کرنے سے اجتناب کرنے لگ گئے ہیں حالانکہ یہ